نابینا ریچھ کو ظالمانہ قید سے نجات، عدالت کا محفوظ پناہ گاہ منتقل کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
لاہور:
لاہور ہائیکورٹ نے نایاب نسل کے 32 سالہ نابینا بھورے ریچھ کو بانسرہ گلی مری کے چڑیا گھر سے اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے ریسکیو سینٹر میں منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ فیصلہ جانوروں کے حقوق کے کارکن اور ماحولیاتی و قانونی مشیر، التمش سعید کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سنایا گیا، جسے پاکستان میں قید جنگلی حیات کے لیے ایک بڑی قانونی اور اخلاقی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ ریچھ چھ سال قبل حافظ آباد میں ایک مداری سے بازیاب کروایا گیا تھا۔ بازیابی کے وقت اس کے ناخن کھینچے گئے تھے، دانت گر چکے تھے، اور بینائی مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی۔ بازیابی کے باوجود اسے غیر انسانی حالات میں قید رکھا گیا۔ پہلے لاہور چڑیا گھر اور پھر 2016 میں جلو پارک منتقل کیا گیا، مگر دونوں جگہوں پر اسے مناسب پناہ، ویٹرنری دیکھ بھال یا اس کی نوع کے مطابق ماحول میسر نہ تھا۔
التمش سعید نے بتایا چند ہفتے قبل کمزور اور اذیت میں مبتلا اس ریچھ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جس کے بعد سول سوسائٹی اور وکلاء میدان میں آئے۔ 8 اپریل 2025 کو ریچھ کو عجلت میں بانسرہ گلی، مری کے چڑیا گھر منتقل کیا گیا، لیکن وہاں اس کی حالت مزید ابتر ہو گئی جہاں اسے تنگ اور چھوٹے کنکریٹ کے سیل میں قید کر دیا گیا، قدرتی ماحول سے مکمل طور پر محروم رکھا گیا۔
التمش سعید کے مطابق بھورے ریچھ کی اس غیرقانونی قید کیخلاف انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن میں ریچھ کی مخصوص پناہ گاہ میں منتقلی کا مطالبہ کیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ میں 11، 23 اور 28 اپریل کو تین سماعتیں ہوئیں، جن میں چینگدو بیئر سنکچری چین کے ماہر ڈاکٹر فرنینڈو الیگرے کی شہادت بھی جمع کرائی گئی۔ 28 اپریل کو عدالت نے ریچھ کو ضلع چکوال میں واقع بلکسر بیئر سنکچری منتقل کرنے کا حکم دیا جو پاکستان میں صرف دو منظور شدہ پناہ گاہوں میں سے ایک ہے۔
پانچ مئی کو ہونیوالی سماعت میں ڈاکٹر فخر عباس، سربراہ پی آرسی اور پاکستان کے ممتاز ماہر جنگلی حیات، کی جانب سے تجاویز جمع کرائی گئیں، عدالت نے فیصلہ دیا کہ اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے ریسکیو سینٹر میں منتقلی موزوں ہے، کیونکہ وہاں کا درجہ حرارت بہتر اور عملہ ماہر ہے۔ عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے زوار حسین کیس اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے مشہور "کاون کیس" کا حوالہ دیتے ہوئے جانوروں کو ذی شعور اور آئینی حقوق کا حامل تسلیم کیا۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صرف اس ایک ریچھ کی فلاح تک محدود نہ رہے بلکہ پنجاب بھر میں قید جنگلی جانوروں کے لیے مستقل پالیسی تشکیل دینے کا حکم دے۔ چونکہ پاکستان میں صرف دو سنکچریاں موجود ہیں، اس لیے درجنوں جانور غیر قانونی اور ظالمانہ حالات میں نجی چڑیا گھروں اور تفریحی پارکوں میں قید ہیں، جو نہ صرف پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 1974 بلکہ آئینِ پاکستان میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق جیسا کہ زندگی، عزت، شفاف طریقہ کار اور انسانی سلوک کی بھی خلاف ورزی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لاہور ہائیکورٹ پاکستان میں ریچھ کی
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔