’’بھارت نے علاقائی امن خطرے میں ڈ الا‘‘ اسحاق ڈار کی سفیروں کو بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں مقیم سفیروں کو 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات کو پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بھارتی حملوں پر بریفنگ دی۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے بھارتی جارحیت کی شدید مذمت کی جس نے نہ صرف پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی بلکہ علاقائی امن و استحکام کو بھی خطرے میں ڈالا۔ بھارت نے یہ اقدامات اقوام متحد کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور بین ریاستی تعلقات کو کنٹرول کرنے والے اصولوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے کئے۔ انہوں نے دہشتگروں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے بے بنیاد بھارتی دعووں کو مسترد کر دیا۔ اسحاق ڈار نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق او آئی سی سیکرٹری جنرل نے معصوم شہریوں کی شہادت پر اظہار تعزیت کیا۔ سیکرٹری جنرل او آئی سی نے پاکستان سے یکجہتی اور کشمیری عوام کی حمایت کا اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔