پاکستان کی فضائی حدود میں ایمرجنسی نافذ، ملک کے تمام ایئرپورٹس پر فلائٹ آپریشن معطل
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
بھارت کی جانب سے پاکستان کی ایئربیسز پر میزائل حملوں کے بعد پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے ایک مرتبہ پھر ملک بھر کی فضائی حدود میں فضائی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تمام ایئرپورٹس پر فلائٹ آپریشن دوپہر 12:00 بجے تک معطل کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹم بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
ایئرپورٹ اتھارٹی کے اعلامیے کے مطابق ملک بھر کے تمام ایئرپورٹس ہر قسم کی پروازوں کے لیے بند رہیں گے اور کوئی بھی تجارتی، نجی یا کارگو پرواز اس وقت کے دوران روانہ یا لینڈ نہیں کرے گی۔ پاکستان کی فضائی حدود آج صبح 3:15 سے دوپہر 12:00 بجے تک ہر قسم کی پروازوں کے لیے بند رہے گی۔
مزید پڑھیں: بھارت کا 3 ایئر بیسز پر حملہ، ایئر ڈیفنس سسٹم نے میزائل حملوں کو ناکام بنادیا،ڈی جی آئی ایس پی آر
اتھارٹی کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور پروازوں کی بحالی سے متعلق فیصلہ حالات کے مطابق کیا جائے گا۔ مسافروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل متعلقہ ایئرلائنز سے رابطہ کر کے تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔
یاد رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے رات گئے پریس بریفنگ میں بتایا کہ بھارت نے طیاروں سے نورخان ایئربیس، مرید بیس اور شورکوٹ ایئر بیس کو نشانہ بنایا، بھارت نے فضا سے زمین پر مار کرنےوالے میزائل داغے ہیں۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق ائیرڈیفنس سسٹم نے بھارت کے میزائل حملوں کو ناکام بنایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔