بھارت کیخلاف آپریشن تاریخی اعلان ہے کہ ہم کمزور نہیں: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آپریشن بنیان المرصوص کے تحت بھارت کو منہ توڑ جواب دینے پر پاک فوج کے لیے اعزاز و افتخار کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی بزدلانہ جارحیت کا روشنی میں دیا گیا جواب تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔مریم نواز نے پاک فوج کی جانب سے 10 مئی کی صبح آپریشن بنیان المرصوص کے تحت بھارتی جارحیت کے خلاف عبرت ناک جوابی کارروائی پر فخرکا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی بزدلانہ جارحیت کا روشنی میں دیا گیا جواب تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا پاک سرزمین کے سپاہیو! تم پر سلام ہو، تمہارے جذبےکو سلام ہو، تمہاری غیرت کو سلام ہو، سلام ہے ان محافظوں کو جنہوں نےصرف گولی سےنہیں بلکہ غیرت، حکمت اور شجاعت سے جواب دیا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ آپریشن بنیان المرصوص جوابی کارروائی نہیں، یہ آپریشن تاریخی اعلان ہے کہ ہم کمزور نہیں، امن کے لیے خاموش تھے، جب دشمن نےحد پار کی تو پاکستان نےصبر کوحکمت میں بدلا، اور کڑی ضرب لگائی، امن کے خواہاں ضرور ہیں مگر جارحیت کا جواب خاموشی نہیں، ضرب ہوتا ہے، پاکستان کی سرحدیں صرف خاردار تاروں سےنہیں، شہیدوں کے لہو سے محفوظ ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے 10 مئی کی صبح ادھم پور، آدم پور اور پٹھان کوٹ ائیر بیسز سمیت کئی ائیر فیلڈز کو تباہ کر دیا جب کہ بھارتی ریاست مہاراشٹرا کی الیکٹرک کمپنی پر سائبر حملہ کرکے بجلی کا نظام مکمل طور پر جام کر دیا اور ملٹری سیٹیلائٹ کو بھی جام کر دیا۔اس کے علاوہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ریاست گجرات میں پاکستانی ڈرونز کئی گھنٹوں تک پرواز کرتے رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔