’ہمارے جواب کا انتظار کرو‘، ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے بھارت میں حملوں تک کیا کچھ ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
9 اور 10 مئی کی درمیانی شب ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے تصدیق کی کہ بھارت نے راولپنڈی میں نور خان ایئربیس، مریدکے ایئر بیس اور شور کوٹ ایئربیس کو نشانہ بنایا ہے اب وہ ہمارے جواب کا انتظار کرے۔
انہوں نے کہا ہے کہ بھارت نے چند لمحے قبل 6 بیلسٹک میزائل فائر کیے، جن میں سے ایک آدم پور اور 5 میزائل امرتسر کے مختلف علاقوں میں گرائے گئے ہیں۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی مکاری اور پاگل پن کے ذریعے پورے خطے کو ایک خطرناک جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص: بھارت کی سرسہ ائیر فیلڈ تباہ کر دی گئی
اس کے بعد 4 بج کر 30 منٹ پر سیکیورٹی ذرائع سے خبر آئی کہ پاکستان نے بھارتی حملوں کے بعد جوابی کارروائی کا آغاز کردیا ہے اور بھارت میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
صبح 5 بجے سے قبل سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں آپریشن بنیان مرصوص کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔ اس آپریشن کے شروع میں ہی بیاس میں موجود براہموس میزائل اسٹوریج کو تباہ کردیا گیا۔
اس کے بعد 5 بج کر 12 منٹ پر خبر آئی کہ پاکستان نے ادھم پور ایئربیس اور پٹھان کوٹ ایئرفیلڈز کو تباہ کردیا ہے۔ یہ وہ ایئربیسز تھے جہاں سے پاکستان میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حملے میں ادھم پور ایئربیس میں کم از کم 3 پاکستانی میزائل گر گئے جس کی ویڈیوز بھی جلد سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔
5 بج کر 45 منٹ کے قریب پاکستان کی طرف سے بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹر کے جی ٹاپ اور سپلائی ڈپو اڑی کو بھی تباہ کرنے کی خبر آئی۔
یہ بھی پڑھیے: آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص: بھارت کے متعدد اہم فوجی اہداف تباہ، دہلی میں پاکستانی ڈرونز کی پروازیں جاری
پاکستان کی طرف سے جوابی کارروائی روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ سائبر محاذ پر بھی کی گئی اور ایک سائبر اٹیک کے ذریعے بھارت کی بجلی کے 70 فیصد گرڈ کو غیرفعال کیا گیا۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں بھارتی ویب سائٹس کو ہیک کرنے کی بھی خبر آئی جس میں بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کی ویب سائٹ بھی شامل تھی۔
6 بجے کے قریب موصول ہونے والی خبر کے مطابق آدم پور ایئرفیلڈ کو پاکستان نے تباہ کردیا۔ یہاں سے مبینہ طور پر امرتسر اور افغانستان میں میزائل داغے گئے تھے۔
6 بجے کے بعد سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی آرٹلری گن پوزیشن دہرنگیاری اور براہموس سٹوریج سائٹ نگروٹا کو نشانہ بنایا گیا۔
7 بجے کے بعد پاکستان ائیر فورس کے جے ایف 17 تھنڈر کے ہائپر سونک میزائلوں نے آدم پور میں بھارت کا S-400 سسٹم تباہ کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی سورت گڑھ ائیر فیلڈ بھی تباہ کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت کے خلاف جوابی کارروائی کے بعد امریکی سیکرٹری خارجہ کا آرمی چیف عاصم منیر سے رابطہ
اس دوران یہ خبریں بھی آئیں کہ پاکستانی ڈرونز نیو دہلی کی فضاؤں میں محو پرواز ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بگڑتی صورتحال کے پیش نظر نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس بھی طلب کرلیا۔ یہ اتھارٹی ایک اعلیٰ ترین سول اور عسکری ادارہ ہے جو ملک کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام اور اسٹریٹجک اثاثوں کے کمان، کنٹرول اور عملی فیصلوں کا ذمہ دار ہے۔
پاکستان نے جوابی کارروائی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے راجوڑی میں پاکستان میں دہشت گردی کروانے والے بھارتی ملٹری انٹیلیجینس کے تربیتی مرکز اور بھارت کی سرسہ ائیر فیلڈ کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
صبح 8 بجے کے قریب پاکستان کی طرف سے پنجاب میں بھٹنڈا ایئربیس اور بعد میں اکھنور ایوی ایشن فیلڈ کو تباہ کرنے کی خبریں آئیں۔
9 بجے کے بعد پاکستانی افواج نے مقبوضہ کشمیر میں بھمبر گلی میں بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا اور تباہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان نےجوابی حملوں میں بھارت کو اب تک کیا نقصان پہنچا دیا؟
اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج نے لائن آف کنٹرول پر کارروائی کرتے ہوئے ربتانوالی پوسٹ، ڈنہ پوسٹ، خواجہ بھیک کمپلیکس اور رنگ کنٹوئر بالمقابل سنکھ بھی مکمل تباہ کردیا۔
ساڑھے 9 بجے کے قریب رائیونڈ سندر اسٹیٹ کے قریب ڈرون گرنے کی اطلاع آئی جس کے دھماکے کی آواز دور تک سنائی دی۔
اس کے بعد امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فونک گفتگو کی جس میں جنوبی ایشیا میں موجودہ صورتحال بالخصوص بھارت کے پاکستان پر حملے اور پاکستان کے ردّعمل پر بات چیت کی۔ دونوں ملکوں نے صورتحال سے متعلق قریبی رابطے بحال رکھنے پر اتفاق کیا۔
10 بجے بھارت کی ہلوارا ائیر فیلڈ کو بھی تباہ کر دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص پاک بھارت کشیدگی حملہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت کشیدگی حملہ جوابی کارروائی کو نشانہ بنایا تباہ کردیا کہ پاکستان پاکستان نے کو تباہ کر میں بھارت ائیر فیلڈ اس کے بعد بھارت کی فیلڈ کو کے قریب کی طرف بجے کے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔