ممبئی :پاکستان کے بعدبھارتی وزارت خارجہ نے بھی جنگ بندی پر اتفاق ہونے کااعلان کر دیاہے ۔
بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کر دہ بیان میں کہا گیاہے کہ دونوں ملکوں میں جنگ بندی کا آغاز ساڑھے چار بجے ہوا، پاکستان اور درمیان غیر جانبدار مقام پر مذاکرات کل ہوں گے، پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز سے آج بات ہوئی ، پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنزسے بات چیت میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔
بھارتی وزارت خارجہ کا کہناتھا کہ دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز12 مئی کو دوبارہ بات چیت کریں گے، پاکستان اور انڈیا کے درمیان زمین، فضا، اور سمندر میں مکمل جنگ بندی ہو گی۔
اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور سلامتی کیلئے کوشش کی، پاکستان نے امن کی کاوشوں میں خودمختاری، سالمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
اسحق ڈار نے کہا کہ کچھ دیر بعد وزارت خارجہ کی جانب سے تفصیلی پریس ریلیز جاری ہوگی، قوم کی دعاوں سے پاکستان نے بھرپور دفاع کیا، نہ صرف دفاع کیا، بلکہ جو رسپانس دینا چاہیے تھا وہ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ممالک 24 گھنٹوں سے جنگ بندی کےلی کوشش کررہے تھے، ہماری ایک ہی بات تھی کہ ہم سیز فائر کیلئے تیار ہیں، بھارت اگر قدم اٹھاتا تو ہم جواب دیتے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت سیز فائر پر تیار ہوگئے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تصدیق کردی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایکس پیغام میں کہا کہ پاکستان اور بھارت جنگ بندی پر راضی ہوگئے ہیں، دونوں ملکوں نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کو فیصلہ کرنے پر مبارکباد دیتے ہیں۔
قبل ازیں پاکستان نے بھارت کی جارحیت کے جواب میں ہفتہ کی رات آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ شروع کیا تھا، جس میں بھارت کے ایئر بیسز، فوجی تنصیبات اور اسلحہ ڈپوؤں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: دونوں ملکوں پاکستان اور پاکستان کے پاکستان نے کہا کہ

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ