وزیراعظم کاسیاسی رہنماؤں سے رابطہ، آپریشن پر اعتماد میں لیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
الحمدللہ افواج پاکستان نے بھارتی جارحیت کا مربوط ، پر زور اور طاقت ور جواب دیا ہے ، شہباز شریف
سیاسی رہنماؤں کی مشکل کی اس گھڑی میں پوری پاکستانی قوم کے تعاون اور یکجہتی کی یقین دہانی
وزیراعظم شہباز شریف نے سیاسی رہنماؤں سے رابطے کرکے بھارت کیخلاف آپریشن پر اعتماد میں لیا ہے ۔جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن، ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی، خالد مگسی اور چوہدری سالک حسین کو فون اور بھارت کیخلاف جوابی کارروائی کے سلسلے میں اعتماد میں لیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ الحمدللہ افواج پاکستان نے بھارتی جارحیت کا آج مربوط طریقے سے پر زور اور طاقت ور جواب دیا ہے ، بھارت نے پاکستان پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ان جارحانہ اقدامات کے باوجود پاکستان نے انتہائی تحمل سے کام لیا۔ شہبازشریف نے کہاکہ پہلگام واقعے کے بعد پاکستان نے حقائق جاننے کے لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا کہا، جس کو بھارت نے ٹھکرا دیا، صبح دوبارہ بھارت نے نور خان ایئربیس اور دیگر مقامات پر میزائل سے حملے کیے ، بھارتی حملوں میں نہتے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔وزیراعظم نے کہاکہ بھارت کی ان پے در پے کاروائیوں کا ہماری بہادر افواج نے بھرپور جواب دیا۔ شہبازشریف نے کہاکہ پاکستان نے آپریشن بنیان ال مرصوس میں جوابی کارروائی میں بھارت کی ان ملٹری تنصیبات کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جن سے پاکستان پر حملے کیے گئے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے اور بے گناہوں کے خون کا بدلہ لے لیا ہے ، ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آپ سمیت پوری قوم کو میں اس کامیاب آپریشن پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہم بھارت کی پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔ملکی سیاسی راہنماؤں نے پاک فوج کے جوانوں کے تدبر، حوصلے اور پیشہ ورانہ مہارت کو خراج تحسین پیش کیا ۔ملکی سیاسی رہنماؤں نے وزیراعظم کو مشکل کی اس گھڑی میں اپنے اور پوری پاکستانی قوم کے تعاون اور یکجہتی کا یقین دلایا۔ سیاسی قیادت نے کہاکہ مادر وطن کے دفاع کے لیے ہماری بہادر افواج کی مہارت قابل تحسین ہے ۔وزیراعظم نے ملکی سیاسی قیادت کا واشگاف الفاظ میں ساتھ دینے پر اظہار تشکر کیا ۔وزیراعظم نے بھارتی جارحیت پر پاکستان کی جانب سے آپریشن بنیان ال مرصوص کی صورت میں جوابی کارروائی کی حمایت پر بلاول بھٹو زرداری سے اظہار تشکر کیا ۔چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے حالیہ کشیدگی میں ملک و قوم کی مثالی قیادت کرنے پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا اور کہاکہ ہم بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دینے پر پاکستان فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے ۔ جماعت اسلامی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے ہفتہ کی صبح امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے انہیں ہندوستان کے حملے سے پیش آنے والی صورت حال اور دشمن کو دیے جانے والے جواب کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ امیر جماعت نے کہا کہ ہندوستان کو ٹھوس جواب دینے پر پوری قوم حکومت اور افواج پاکستان کو مبارک باد پیش کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا سفارت کاری پر مزید توجہ دی جائے اور پوری دنیا کو حقیقی صورت حال اور اپنے موقف سے آگاہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام اختلافات ختم ہوگئے ہیں اور پوری قوم یک جان ہے ۔ جماعت اسلامی جکومت اور فوج کی پشت پر ہے اور عوام جذبے سے سرشار ہیں۔ منصورہ سے جاری ایک الگ ویڈیو پیغام میں امیر جماعت کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان نے بھارت پر کاری ضرب لگا کر اس آپریشن کا آغاز کیا ہے جس کا پوری قوم انتظار کررہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو سمجھ آجانا چاہیے کہ جو جنگ اس نے جھوٹ بول کر ، فالس فلیگ آپریشن کرکے اور ہمارے بچوں کو شہید کرکے شروع کی ہے اس کا جواب اسے مل رہا ہے ۔ امیر جماعت نے کہا کہ ریاست اور افواج پاکستان نے پختگی کا مظاہرہ کیا، جذباتی پن میں آنے اور افراتفری پھیلانے کی بجائے انہوں نے تحمل سے منصوبہ بندی کر کے بھارتی ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنایا جس پر جماعت اسلامی افواج کو خراج تحیسن پیش کرتی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ خارجہ محاذ پر بہت تیزی سے کام کی ضرورت ہے ، موجودہ حالات میں امریکہ سمیت دنیا بھر سے رابطے ہورہے ہیں ، انہیں بتایا جائے کہ جب تک بھارت سندھ طاس معاہدہ کو بحال ، فالس فلیگ آپریشن اور سویلین کی شہادتوں پر ندامت کا اظہار نہیں کرتا ہاکستان کی طرف سے امن کی کوئی ضمانت نہیں۔ انہوں نے کہا بلاشبہ جنگیں تباہی لے کر آتی ہیں لیکن جو قومیں اپنی آزادی و خودمختاری پر سودے بازی کرلیتی ہیں ان کے لیے ذلت کی زندگی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہیں تاہم بھارت کی طرف سے کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے قوم سے اپیل کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھے ،اللہ کے فضل سے پاکستان کامیاب ہوگا۔ وزیراعظم سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پاکستان کا بھارت کو بھرپور جواب قابل تحسین ہے ، بھارت مسلسل جارحیت کررہا ہے جو پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم ہر محاذ پر انشاء اللہ بھارت کو بھرپور جواب اور شکست دیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ پوری قوم اپنی افواج کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے ، عوام کے حوصلے بلند ہیں اور پوری قوم متحد و ایک صف میں ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بھارت نے جارحیت کی ہے پاکستان نے بھرپور جواب دیا جو قابل ستائش ہے ، اس وقت ہر فرد حکومت کے ساتھ اور اپنی فوج کے ساتھ کھڑا ہے ۔وزیر اعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمن کے جذبات کی تعریف کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف نے افواج پاکستان نے سیاسی رہنماؤں بھارتی جارحیت انہوںنے کہاکہ اعظم نے کہاکہ جماعت اسلامی انہوں نے کہا بھرپور جواب جارحیت کا بھارت کی کہاکہ ہم نے بھارت جواب دیا پوری قوم بھارت نے اور پوری بھارت کو کے لیے
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔