پی ایس ایل کے بقیہ میچز کہاں ہوں گے؟ نام سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
پاک بھارت جنگ بندی کے بعد پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں ایڈیشن کے میچز راولپنڈی منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ایس ایل انتظامیہ نے فرنچائزز سے رابطہ کرکے انہیں پیغام پہنچایا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر ہوگیا ہے، اس لیے غیر ملکی کھلاڑیوں کو دبئی میں ہی روک لیا جائے۔
فرنچائزز سے مقامی کھلاڑیوں کو بھی ذہنی طور پر تیار رہنے کا کہہ دیا اور کہا گیا ہے کہ پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن کے میچز اسلام آباد اکٹھا ہونا پڑے۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل ملتوی ہونے سے متعلق بھارتی میڈیا "جھوٹی خبریں" پھیلانے لگا
جنگ بندی اعلان کے بعد پی ایس ایل انتظامیہ نے کھلاڑیوں، ہوٹلز اور گراؤنڈ اسٹاف کو بقیہ میچز مکمل کروانے کیلئے ہوم ورک شروع کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: پی سی بی کا پی ایس ایل کے باقی میچز ملتوی کرنے کا اعلان
تاہم انتظامیہ کی جانب سے حتمی طور پر کوئی شیڈول جاری نہیں کیا گیا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بقیہ میچز راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شیڈول رکھے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: "غیر ملکی کھلاڑیوں کو روکا جائے" پی ایس ایل انتظامیہ پھر متحرک
یاد رہے کہ پی ایس ایل ٹیموں کے درمیان 4 گروپ میچز یعنی کراچی کنگز بمقابلہ پشاور زلمی، لاہور قلندرز بمقابلہ پشاور زلمی، اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ کراچی کنگز اور ملتان سلطان بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے میچز شامل ہیں۔
اسکے علاوہ کوالیفائز، ایلیمنیٹر 1، ایلیمیٹر 2 اور فائنل کے میچز کھیلے جانے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل کے میچز
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔