پی ٹی آئی کیساتھ بھی سیاسی سیز فائر ہونا چاہئے: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ سیز فائر ہو سکتا ہے تو پی ٹی آئی کے ساتھ بھی سیاسی سیز فائر ہونا چاہئے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قوم نے بھارت کو سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر جواب دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو پاکستان کا جواب پوری دنیا نے دیکھا، آئندہ بھی کسی قسم کی جارحیت کا ایسا ہی سخت جواب آئے گا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ بھارت کے ساتھ سیز فائر ہو سکتا ہے تو پی ٹی آئی کے ساتھ بھی سیاسی سیز فائر ہونا چاہئے۔
" یہ لال بٹن نہیں دبانا تھا" جنگ کے میدان کے ساتھ ساتھ میمز میں بھی بھارت کو ڈھیر کردیا گیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی سیز فائر کے ساتھ
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔