دوٹوک موقف اپنانے پر اسپیکر پنجاب اسمبلی کا فیس بک پیج بھارت میں بلاک
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
دوٹوک موقف اپنانے پر اسپیکر پنجاب اسمبلی کا فیس بک پیج بھارت میں بلاک WhatsAppFacebookTwitter 0 11 May, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز)اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا دوٹوک مقف بھارت کو گوارا نہ ہوا، جس پر فیس بک پیج بھارت میں بلاک کر دیا گیا۔اسپیکر ملک محمد احمد خان نے پہلگام واقعے کے حقائق اور بھارتی بیانیے کا پول کھولا اور بھارت کو آئینہ دکھایا
انہوں نے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا قانونی موقف بھرپور انداز میں پیش بھی کیا۔سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو آئینہ دکھانے پر فیس بک پیج بلاک کر دیا گیا۔اسپیکر ملک محمد احمد خان نے پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے دو ٹوک موقف اختیار کیا۔اظہارِ رائے کی آزادی کا دعویدار بھارت تنقید برداشت کرنے سے قاصر ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسیز فائر کے بعد آخر کار نواز شریف منظرِ عام پر آ ہی گئے، بیرسٹر سیف کا طنز سیز فائر کے بعد آخر کار نواز شریف منظرِ عام پر آ ہی گئے، بیرسٹر سیف کا طنز بلاول نے بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانا پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دیدیا پاک بھارت سیز فائر، اسکول اور تعلیمی ادارے کل سے معمول کے مطابق کھلیں گے جناح اسکوائر مری روڈ انڈر پاس منصوبے کا افتتاح 22 مئی کو ہو گا، وزیر داخلہ ڈی جی آئی ایس پی آر آج 7 بجکر 15 منٹ پر اہم پریس کانفرنس کریں گے بھارت کیساتھ سیز فائر ہو سکتا ہے تو پی ٹی آئی کیساتھ بھی سیاسی سیز فائر ہونا چاہیے، بیرسٹر گوہر کا مطالبہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فیس بک پیج
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔