کوئٹہ میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ عوام کی مقبول قیادت کو دھاندلی اور بددیانتی کے ذریعے ہروایا اور مصنوعی قیادت کو عوام پر مسلط کیا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ علمائے کرام کو ہر حال میں حق بات کہنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے علماء سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ ظالم کے ظلم اور مظلوم کی بھوک پر خاموش نہ رہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں جماعت اسلامی بلوچستان کے زیر اہتمام ’’سلگتا بلوچستان اور علمائے کرام کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں بلوچستان بھر سے علمائے کرام، ملی یکجہتی کونسل بلوچستان کے رہنماؤں اور مختلف مکاتب فکر کے جید علماء نے شرکت کی۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے صوبائی صدر علامہ سید ظفر عباس شمسی اور صوبائی جنرل سیکرٹری علامہ سہیل اکبر شیرازی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان میں گولیوں کے زور پر امن قائم کرنے کی سوچ سنگین غلطی ہے۔ وطن عزیز پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ عوام کی مقبول قیادت کو دھاندلی اور بددیانتی کے ذریعے ہروایا جاتا ہے۔ انہیں جیلوں میں ڈال کر مصنوعی قیادت کو عوام پر مسلط کیا جاتا ہے۔ ایسے جعلی دو نمبر حکمران جنہیں عوام رد کر چکے ہوتے ہیں۔ علامہ ڈومکی نے مزید کہا کہ بلوچستان اور پاکستان دونوں کو اس وقت آئینی انحراف کا سامنا ہے۔ مقتدر ادارے آئین اور قانون کو پامال کرکے عوامی قیادت کو جیلوں میں ڈال دیتے ہیں، جبکہ بلوچستان کے مسئلے کا حل گزشتہ 70 سال کے زخموں پر مرہم رکھنے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم محب وطن پاکستانی ہیں، افواج پاکستان کے آئینی کردار کا احترام کرتے ہیں۔ بھارتی جارحیت کے مقابلے میں پاک فوج اور فضائیہ نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مگر سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت آئین کے خلاف ہے جسے ہم تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ مقصود بلوچستان کے ڈومکی نے قیادت کو نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار