مشروب ساز کمپنیوں کی سخت نگرانی کیلیے 50 سے زائد ریونیو افسران تعینات
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مشروب ساز کمپنیوں کی سخت نگرانی کا فیصلہ کرتے ہوئے 21 مشروبات کمپنیوں میں 50 سے زائد ریونیو افسران تعینات کر دیے۔
ایف بی آر کی ہدایت پر پیداوار اور فروخت کی سخت نگرانی شروع کی گئی ہے، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
لارج ٹیکس پیئرز آفس لاہور کو نگرانی کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔ ایف بی آر نے صنعتی یونٹس میں اسٹاک اور ریکارڈ کی جانچ کا حکم دیا ہے۔
ان لینڈ ریونیو افسران مخصوص کمپنیوں میں 2 جون تک تعینات ہوں گے۔ پیداوار، ترسیل اور سیلز کا مکمل ریکارڈ بورڈ کو پیش کیا جائے گا۔
ایف بی آر نے ایکٹ 1990 اور 2005 کے تحت اختیارات استعمال کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف بی آر
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔