Jasarat News:
2026-07-24@13:29:33 GMT

میئر کراچی علامہ اقبال پارک سے قبضہ ختم کرادیں‘ محمود حامد

اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250927-08-9

 

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) اسمال ٹریڈرز کراچی کے صدر اور سابق کونسلر گلبرگ ٹاؤن محمود حامد نے فیڈرل بی ایریا بلاک 14 میں علامہ اقبال پارک کے بڑے حصے پر میئر کراچی کے جانب سے قبضہ کرنے اور رفاہی پلاٹ کے تجارتی استعمال پر شدید ردعمل کا اظہار کیاہے پلاٹوں پر قبضوں کے خلاف آج احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں اور بچوں کے کھیلنے کے گراؤنڈز کو تجارتی مقاصد پر دے کرہمارے بچوں سے ان کا حق چھینا جارہاہے انہیں کھیل کود کی صحت مند سرگرمیوں سے محروم کیا جا رہا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ لوٹ مار کے لیے اور اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے کیا جا رہا ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل بی ایریا اور کراچی کے یہ قیمتی پلاٹ محسن کراچی عبدالستار افغانی ہمارے کونسلرز اخلاق احمد مرحوم ،ڈاکٹر محمد حامد مرحوم اور راجا رحمت مرحوم کی جدوجہد اور کوششوں کے ذریعے سے محفوظ رہے ہیں ،قابضین سے بچانے کے لیے ان کے ان پر چار دیواریاں تعمیر کی گئیں ،میئر افغانی اور ان نمائندوں نے عوام کی امانتوں کی دل و جان سے حفاظت کی مگر اب پیپلز پارٹی کا میئر ہماری پراپرٹیز کو سرمایہ داروں کے حوالے کر کے نوٹ بنا رہا ہے اور نوجوانوں کو کھیل کود سے محروم کر کے نشے اور گٹکے کی طرف مائل کرنے کی سازشیش کر رہا ہے اگر شہرمیں کھیل کے میدان نہیں ہوں گے کھیل کود کی سرگرمیاں نہیں ہوں گی تو معاشرے کے اندر جرائم پروان چڑھیں گے۔ محمود حامد نے کہا کہ ہائی کورٹ کے نئے فیصلے کی روشنی میں رفاہی پلاٹ کو کسی طرح بھی تجارتی استعمال میں نہیں لایا جا سکتا میئر کراچی نے اپنے جن چہیتوں کو علامہ اقبال پارک ایس ٹی 16 کاجو حصہ دیا ہے اسے فوری خالی کروا کر عوام کے سپرد کیا جائے ، ورنہ فیڈرل بی ایریا کے عوام اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ وہ اپنے زور بازو سے ہائی کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرائیں اور نوجوانوں کے تفریحی پلاٹوں سے قابضین کو بے دخل کرسکیں ،محمود حامد نے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کے ایم سی کونسل میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ ٹاؤن چیئرمین گلبرگ نصرت اللہ سے اپیل کی کہ وہ فیڈرل بی ایریا بلاک 14 کے مکینوں کو ان کا حق دلانے میں اپنا کردار ادا کریں اور قابض ٹولے سے عوام کو تحفظ دلائیں ۔ اس موقع پر چیئرمین یو سی 4عظیم اللہ حسینی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پوری طرح عوام کے ساتھ ہیں اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں ہم ان قبضوں کو ختم کرائیں گے، مظاہرے میں کونسلر فرہاب برنی، کونسلر سعد منیر اور کوآرڈینیٹرچیئرمین یو سی 4 محمد عبدالرحمن بھی موجود تھے مظاہرین نے رفاہی پلاٹوں پہ قبضہ کرنے والوں کے خلاف سخت نعرے بازی کی ۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فیڈرل بی ایریا کہا کہ رہا ہے

پڑھیں:

فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار

(گزشتہ سے پیوستہ)
دوم انصاف ،اقبالؒ کے نزدیک امن صرف اسی وقت قائم ہوسکتاہے جب انصاف ہو۔قرآن کہتا ہے ،بے شک اللہ عدل اوراحسان کاحکم دیتاہے۔ (النحل: 90)
پاکستان کوہرمعاملے میں انصاف،توازن اور اصولی موقف اختیارکرنا چاہیے۔پاکستان کوایک غیرجانبدارثالث کے طورپردونوں فریقین کے مؤقف کوسمجھتے ہوئے ایک منصفانہ حل پیش کرنا چاہیے،نہ کہ کسی ایک طاقت کے زیرِاثرآکر۔
سوم احترامِ خودمختاری :تیسرا اصول انسانیت کو مقدم رکھناہے۔اقبال کاپیغام جغرافیائی حدودسے بلندتھا۔وہ انسان کوبحیثیت انسان دیکھتے تھے۔وہ فرماتے ہیں ’’مذہب نہیں سکھاتاآپس میں بیررکھنا ‘‘۔ خودمختاری کااحترام بہت اہم ہے۔اقبالؒ نے ہمیشہ غلامی اوربیرونی تسلط کے خلاف آواز اٹھائی۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایران کی خود مختاری اور امریکاکے عالمی کرداردونوں کومدنظررکھتے ہوئے ایک متوازن حکمت عملی اختیارکرے لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ امن کے راستے کبھی آسان نہیں ہوتے۔جب بھی دنیامیں امن کی کوئی کوشش ہوتی ہے،توبعض عناصراپنے سیاسی، معاشی یا تزویراتی مفادات کے باعث اعتماد سازی کے عمل کوکمزورکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے حالات میں اصل امتحان معاہدے پردستخط کرنانہیں بلکہ اس اعتمادکوبرقرار رکھنا ہوتاہے جس پرامن کی بنیادرکھی جاتی ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان کے پاس اپنے اس کردارکو بڑھانے کے لئے کئی عملی راستے موجود ہیں:
پہلا،سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ، پاکستان کوچاہیے کہ وہ اسلامی تعاون تنظیم اوراقوامِ متحدہ جیسے فورمزپرفعال کرداراداکرے اور ایران- امریکا تنازع کے مستقل حل کے لئے دوبارہ ٹھوس تجاویزپیش کرے۔
دوسرا،اعتمادسازی کے اقدامات ہیں۔امن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ عدم اعتماد ہے۔ جب ریاستیں ایک دوسرے پراعتمادکھو دیتی ہیں تو معاہدے کاغذکے ٹکڑے بن جاتے ہیں۔اس لئے پاکستان کو چاہیے کہ وہ اعتماد سازی کے اقدامات کواپنی سفارتی حکمتِ عملی کامرکزی حصہ بنائے۔یہ اعتمادصرف سرکاری سطح پرنہیں بلکہ عوامی سطح پربھی ہونا چاہیے ۔پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اعتمادکی فضاقائم کرنے کے لئے غیررسمی ملاقاتوں،تھنک ٹینکس،اورعلمی کانفرنسزکا انعقاد کرسکتاہے۔ علمی و ثقافتی تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبے ، اور بین الاقوامی کانفرنسزکے انعقاد میں اقبالؒ اکیڈمی اہم کرداراداکرسکتی ہے۔پاکستان کوچاہیے کہ وہ ایک ’’مکالماتی کلچر‘‘کو فروغ دے ،ایسا کلچرجس میں اختلاف کو برداشت کیاجائے،سوال کودبایانہ جائے اور دلیل کوترجیح دی جائے۔یہی وہ فضاہے جس میں امن پنپ سکتاہے۔ سوال کودبایانہ جائے،اوردلیل کوترجیح دی جائے۔یہی وہ فضاہے جس میں امن پنپ سکتاہے۔
تیسرا،اقتصادی تعاون ہے کیونکہ اقتصادی استحکام بھی امن کا ایک اہم جزوہے۔اقبالؒ ایک مضبوط اورخوددارمعیشت کے قائل تھے۔ پاکستان اگرخطے میں اقتصادی روابط کو فروغ دے،تویہ ممالک کوتصادم کی بجائے تعاون کی طرف راغب کرسکتاہے۔ اقبالؒ نے خودی کے ساتھ ساتھ خود کفالت پربھی زوردیا۔ ایک مضبوط معیشت نہ صرف داخلی استحکام لاتی ہے بلکہ خارجی سطح پربھی وقارعطاکرتی ہے۔پاکستان اگرعلاقائی اقتصادی تعاون کوفروغ دے، تجارتی روابط کووسعت دے،اورمشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرے تووہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے خطے کے لئے امن کاراستہ ہموارکرسکتاہے۔
چوتھا،مذہبی اورتہذیبی ہم آہنگی کافروغ ہے۔ مذہب کاکرداربھی اس ضمن میں نہایت اہم ہے۔ بدقسمتی سے آج مذہب کواکثرشدت پسندی کے ساتھ جوڑاجاتاہے،حالانکہ اسلام کااصل پیغام امن،رحمت اوراعتدال ہے۔پاکستان ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناطے ایک ایسامتوازن بیانیہ پیش کرسکتاہے جو مذہب کوشدت پسندی کے بجائے امن اوررواداری کے ساتھ جوڑتاہو،جواقبالؒ کی تعلیمات کابھی نچوڑ ہے۔ اقبال ؒکی فکرمیں مذہب ایک زندہ قوت ہے جو انسان کوبیدارکرتی ہے، اسے ذمہ داری کااحساس دلاتی ہے،
اوراسے خیرکے راستے پرگامزن کرتی ہے جیسا کہ اقبالؒ نے فرمایا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
ریاستوں کاکردارافرادکے کردارسے بنتا ہے۔ لہٰذاپاکستان کے پالیسی سازوں، سفارتکاروں، اور دانشوروں کواقبال کی فکرکوعملی جامہ پہناناہوگا۔امن کے قیام کے لئے صرف ریاستی سطح پر اقدامات کافی نہیں ہوتے بلکہ فکری وتہذیبی سطح پربھی کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔پاکستان اس حوالے سے ایک منفردمقام رکھتا ہے۔ اس کی تہذیب،اس کی زبان ،اس کاادبی ورثہ سب امن،محبت اوررواداری کاپیغام دیتے ہیں۔اقبالؒ کی شاعری خودایک سفارتی قوت ہے۔ان کے اشعاردلوں کونرم کرتے ہیں،ذہنوں کوروشن کرتے ہیں اورانسان کواس کی اصل پہچان دلاتے ہیں۔ آج کی دنیا میں ’’ہارڈ پاور‘‘یعنی فوجی طاقت کی بجائے ’’سافٹ پاور‘‘یعنی سفارت،ثقافت،اور نظریہ زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے ۔ اگر پاکستان اقبالؒ کے فلسفہ کواپنی خارجہ پالیسی کاحصہ بنالے اوراس ادبی وفکری ورثے کواپنی سافٹ پاورکے طورپراستعمال کرے تووہ دنیامیں نہ صرف ایک مثبت تاثر قائم کرسکتاہے بلکہ ایک امن کے سفیر کے طورپرابھرسکتاہے۔
امریکااورایران کے درمیان مصالحت کے لئے پاکستان درج ذیل اقدامات کرسکتاہے:
غیرجانبدارثالثی کی پیشکش،دونوں ممالک کے درمیان خفیہ مذاکرات کی میزبانی،مشترکہ اقتصادی منصوبوں کی تجویز،علاقائی امن کانفرنس کا انعقاد۔
اس حوالے سے پاکستان کے تمام اقدامات اقبال کے تصورِانسانیت کی وحدت کے عین مطابق ہیں۔
دنیااس وقت ایک نازک دورسے گزررہی ہے۔ایک غلط فیصلہ،ایک غلط فہمی یاایک غیرذمہ دارانہ اقدام بڑے بحران کوجنم دے سکتا ہے۔ایسے وقت میں پاکستان کواقبال کے اس پیغام کواپنارہنمابناناچاہیے:
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
یقین،مسلسل عمل اورانسانیت سے محبت ہی وہ طاقتیں ہیں جودنیا کوتباہی سے بچاسکتی ہیں۔آج کی دنیا میں طاقت کی نوعیت بدل چکی ہے اب صرف عسکری قوت کافی نہیں بلکہ فکری، ثقافتی او سفارتی قوت بھی اہم ہوچکی ہے۔ پاکستان اگران تمام جہات میں توازن پیدا کرے تووہ ایک مؤثرعالمی کردارادا کرسکتاہے۔
اقبال ؒکی فکرمحض کتابوں تک محدودنہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔فکرِ اقبالؒ ہمارے لیے محض ایک ادبی ورثہ نہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی ہے ۔ اگرہم اس فکرکواپنی پالیسیوں ،اپنے اداروں، اوراپنی اجتماعی زندگی میں شامل کرلیں توہم نہ صرف اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں بلکہ دنیا کے لئے بھی ایک مثال بن سکتے ہیں۔اگر پاکستان ان اصولوں کواپنائے تونہ صرف وہ اپنے اندراستحکام لاسکتاہے بلکہ عالمی امن میں بھی ایک کلیدی کرداراداکرسکتاہے۔
دعاہے کہ اللہ تعالی پاکستان کوامن،عدل اور خیرکاعلمبرداربنائے،اللہ ہمیں اقبال ؒکے افکارکوسمجھنے اوران پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اوردنیاکے تمام ممالک کوتنازعات کی بجائے مکالمے،جنگ کی بجائے امن اورنفرت کی بجائے انسانیت کاراستہ اختیار کرنے کی توفیق عطافرمائے۔اس پرعمل کرنے ، اور اسے دنیاتک پہنچانے کی توفیق عطافرمائے۔ اللہ پاکستان کوامن،عدل اورانسانیت کاعلمبردار بنائے۔
اقبال اکیڈمی لاہورمیں 14جولائی2026 کوسیمینارسے خطاب

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی