مودی ابھی باز نہیں آئے گا، بہار الیکشن سے پہلے پنگا لے گا ‘، شیخ رشید احمد
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
اسلام آباد: سربراہ عوامی مسلم لیگ اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نےکہاہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ابھی باز نہیں آئے گا اور بہار کے الیکشن سے پہلے پنگا لے گا اس لیے ہمیں الرٹ اور جاگتے رہنا چاہیے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ بہار کا الیکشن مودی کے گلے پڑا ہوا ہے، ابھی لڑائی ختم نہیں ہوئی اور مئی اہم ہے جبکہ مئی کے 17 دن اہم دیکھ رہا ہوں، ہم نے بھارت کے 5 سے زیادہ جہاز گرائے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بھارت کے بہت سے مسائل سے واقف ہوں ، سیز فائر ہوا ہے جنگ ختم نہیں ہوئی ، جنگ ہوئی تو خطرناک اور تشویشناک ہوگی۔
شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ بہاولپور اور مرید کے بھارت کا پرانا نشانہ ہے ، بھارت نے سوچا نہیں تھا ان کا دفاعی نظام جام ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان صورتحال خراب ہوئی تو کشمیر سے بھی لوگ نکلیں گے ، کشمیر کا مسئلہ ابھی درمیان میں ہے ، ہمیں کشمیر اور پانی کا مسئلہ بات چیت سے حل کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کبھی بڑا بم استعمال نہیں کرسکتا کیونکہ بھارت میں زیادہ مسلمان ہیں، بھارت میں پاکستان سے زیادہ ہی مسلمان ہوں گے اور مودی بھارت میں مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔