اهل‌ بیت (ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ایک خطاب کرتے ہوئے رہبر معظم انقلاب کے مشیر کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ و اسرائیل نے اپنی تسلط پسندانہ پالیسی کو ترک نہ کیا تو انہیں بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ رہبر معظم انقلاب کے مشیر "علی لاریجانی" نے کہا کہ فلسطینی عوام کی جدوجہد کا نمایاں چہرہ شہید "اسماعیل ھنیہ" کی ٹارگٹ کلنگ، مسئلہ فلسطین میں متاثر کُن کردار ادا کرنے والی عظیم شخصیات کی شہادت، پیجر دھماکوں اور صیہونی بمباری میں شہید ہونے والے حزب الله کے متعدد کمانڈرز بالخصوص شہید "سید حسن نصر الله" کی شہادت مسلمانوں کے لئے نہایت تکلیف دہ تھی۔ اسی طرح ایرانی صدر و وزیر خارجہ کی ہیلی کاپٹر حادثے میں اپنے رفقاء کے ہمراہ شہادت ایرانیوں کے لئے ایک بڑا نقصان تھا۔ جس بناء پر گزرنے والے ڈیڑھ سال کو ایرانیوں اور مسلمانوں کے لئے حادثوں کا سال کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اهل‌ بیت (ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی میں اپنے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر علی لاریجانی نے کہا کہ سیاسی، عسکری اور سیکورٹی محاذوں پر صیہونی رژیم و امریکہ کی اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف عسکری مہم جوئی و یمن کے ساتھ تصادم گزشتہ ڈیڑھ سال کے نمایاں واقعات میں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام و خطے میں موجود استقامتی فورسز کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جنہوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود ثابت کیا کہ وہ جدوجہد کرنے والے لوگ ہیں اور ایک عظیم اثاثہ ہے۔

فلسطین کی صورت حال پر علی لاریجانی نے کہا کہ اسرائیل کب سے کہہ رہا ہے کہ اس نے "حماس" کو ختم کر دیا۔ لیکن کیا حماس واقعی ختم ہو گئی؟۔ نہیں۔ شاید حماس کو نقصان پہنچا ہو لیکن وہ ختم نہیں ہوئی۔ کیونکہ استقامتی محاذ اُس جذبے کا نتیجہ ہے جو رواں برسوں میں مسلمانوں کی نئی نسل میں ابھرا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کی وجہ ایران نہیں بلکہ یہ تاریخی مسئلہ ہے۔ امریکہ و اسرائیل کے دباو کے نتیجے میں فلسطینی عوام مقاومت کرنے پر مجبور ہوئے۔ البتہ ہمیں افتخار ہے کہ ہم فلسطینی عوام کی حمایت کرتے ہیں۔ علی لاریجانی نے کہا کہ یہی مشکل لبنان کے ساتھ ہے کہ جہاں مغرب کا کہنا ہے کہ "حزب‌ الله" کو ایران نے بنایا۔ حالانکہ حقیقت حال یہ ہے کہ جب اسرائیل نے بیروت پر قبضہ کیا تو اس کے نتیجے میں حزب‌ الله وجود میں آئی۔ یہاں بھی ہمیں فخر ہے کہ ہم لبنان کی حمایت کرتے ہیں۔ امریکہ و اسرائیل اپنے ہاتھوں سے ایسی صورت حال ایجاد کرتے ہیں کہ علاقائی عوام ان کے سامنے مقاومت کرے۔ خطے میں مقاومت، ان دونوں شیاطین کی رفتار کی وجہ سے سامنے آئی۔ یہ طاقت کے بل بوتے پر مشرق وسطیٰ میں اپنے منصوبوں کو عملی جامہ نہیں پہنچا سکتے۔ اگر امریکہ و اسرائیل نے اپنی تسلط پسندانہ پالیسی کو ترک نہ کیا تو انہیں بھاری قیمت چکانا ہو گی۔

علی لاریجانی نے امریکہ و اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم نے غزہ پر شدید دباو ڈالا۔ 50 ہزار سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ لیکن تم پھر بھی مقاومت اور حماس کو ختم نہ کر سکے۔ یہ کہنے میں کوئی ممانعت نہیں کہ انہوں نے اپنے مصنوعی فائدے کے لیے مزاحمت کو نقصان پہنچایا۔ لیکن جب تک خطے کے لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا رہے گا، مزاحمت باقی رہے گی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی کے حوالے سے علی لاریجانی نے کہا کہ امریکہ ایک جانب مذاکرات کر رہا ہے تو دوسری جانب ہم پر اقتصادی دباو بھی بڑھا رہا ہے۔ ہمارے جوہری پروگرام کے سلسلے میں امریکہ کا کردار نہایت مشکوک ہے۔ وہ ہر روز ایک نئی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی ملک IAEA رکن بھی ہو اور NPT معاہدے کو بھی قبول کرے۔ اس کے بعد یہ بھی کہے کہ آپ کو جوہری صنعت رکھنے کا کوئی اختیار نہیں۔ آپ کس وجہ سے ایسا کہتے ہو؟۔ انہوں نے کہا کہ مغرب سمجھتا ہے کہ ایران ایسی جگہ پہنچ چکا ہے جہاں اسے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اقتصادی طور پر ایران کی صورت حال اچھی نہیں۔ لہٰذا انہیں ایران پر دباؤ بڑھانا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں اقتصادی مسائل کا سامنا ہے تاہم ان میں سے زیادہ تر مشکلات کا تعلق ہم پر لگنے والی پابندیوں سے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علی لاریجانی نے کہا کہ امریکہ و اسرائیل انہوں نے کہا کہ کرتے ہیں ہیں کہ

پڑھیں:

ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے

امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔

امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔

اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔

امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔

مزید پڑھیں

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔

بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع