رافیل خریداری میں کس نے کتنا مال بنایا؟ کانگریس رہنماؤں نے بھید کھول دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
کانگریس لیڈر رندیپ سنگھ سرجیوالا کا ڈسالٹ کے سی ای او ایرک ٹراپئر کے انٹرویو پر ردعمل میں کہا ہے کہ ڈکٹیشن پر مبنی انٹرویوز اور گھڑی ہوئی جھوٹی باتیں رافیل اسکینڈل کو نہیں دبا سکتیں۔
رندیپ سنگھ سرجیوالا کے مطابق قوم کو تبدیل شدہ وضاحت نہیں بلکہ منصفانہ تحقیقات کی ضرورت ہے، قانون کا پہلا اصول ہے کہ فائدہ اٹھانے والے اور شریک ملزم کے بیانات کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا قانون کا دوسرا اصول یہ ہے کہ فائدہ اٹھانے والے اور ملزم اپنے کیس میں جج نہیں بن سکتے۔
رندیپ سنگھ سرجیوالا کے مطابق بی جے پی حکومت اور ڈسالٹ کے درمیان طے شدہ میچ رافیل بدعنوانی کو چھپا نہیں سکتا، مودی اور ایرک ٹراپئر کے پی آر اسٹنٹس کرپشن پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔
رندیپ سنگھ سرجیوالا کا کہنا تھا کہ رافیل ڈیل میں تقریباً 41 ہزار کڑور کی کرپشن کی گئی ہے۔
دوسری جانب سنجے نروپم کا کہنا ہے کہ آج تک رافیل طیاروں کی اصل قیمت نہیں بتائی گئی، رافیل طیاروں کی آفیشل ڈیل میں مودی کے دوست انیل امبانی کو خاص ترجیح دی گئی اور فائدہ پہنچایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:رافیل جیٹ طیاروں کا تازہ ترین بحران، ڈیسالٹ ایوی ایشن شیئرز کی قیمت میں کمی کا رجحان
سنجے نروپم کے مطابق مودی سرکار نے کہا کہ فرانس نے انیل امبانی کو ڈیل میں شامل کرنے کا کہا تھا جبکہ فرانس حکومت نے کہا کہ مودی سرکار کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا۔
سنجے نروپم کا کہنا ہے کہ ڈسالٹ کمپنی کے اندرونی کاغذات میں جونیئر افسر نے سینیئر افسر کو بتایا کہ انیل امبانی کو ڈیل میں شامل کرنا پڑے گا ورنہ کانٹریکٹ نہیں ملے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رافیل رندیپ سنگھ سرجیوالا سنجے نروپم کانگریس کرپشن مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رافیل سنجے نروپم کانگریس سنجے نروپم ڈیل میں
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔