ٹام کروز اداکاری کے بعد اب کونسے شعبے میں قدم رکھنا چاہتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
ہالی ووڈ کے معروف اداکار ٹام کروز نے فلمی دنیا میں ایک نئے شعبے کا رخ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشن امپاسیبل سیریز کی نئی فلم مشن امپاسیبل: دی فائنل ریکوننگ کی ریلیز سے قبل لندن میں ایک گفتگو کے دوران انہوں نے میوزیکل فلموں میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈرامہ، ایکشن اور ایڈونچر کے ساتھ ساتھ اب موسیقی کی طرف بھی متوجہ ہو رہے ہیں، اور میوزیکل فلموں میں کام کرنا ان کا اگلا ہدف ہے۔
ٹام کروز نے کہا کہ وہ ہر فلم کے سیٹ پر کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، چاہے وہ پانی کے اندر شوٹنگ ہو یا کسی نئے ہنر کا حصول۔ ان کا ماننا ہے کہ فنکار کو مسلسل سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے کی جستجو میں رہنا چاہیے، چاہے وہ موسیقی ہو یا کوئی آلہ بجانا۔
انہوں نے ہدایتکار و اداکار بین اسٹلر کی تعریف کرتے ہوئے ان کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ کروز نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے کرداروں پر خود تحقیق کرتے ہیں اور اس کے مطابق اسکرپٹ میں جان ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ ٹام کروز کی مشن امپاسیبل سیریز کی نئی فلم مشن امپاسیبل: دی فائنل ریکوننگ 21 مئی کو ریلیز ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مشن امپاسیبل ٹام کروز
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔