وزیرِ اعظم کا بھارتی طیاروں کو تباہ کرکے فضائی برتری قائم کرنے والی پاک فضائیہ کی ائیربیس کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے معرکہ حق میں دفاع وطن کے دوران بھارتی طیاروں کو تباہ کرکے پاکستان کی فضائی برتری قائم کرنے والے پاک فضائیہ کے شاہینوں سے ملاقات کیلئے کامرہ ائیربیس کا دورہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعظم نے اکیسویں صدی کی سب سے طویل فضائی جھڑپوں میں سے ایک میں دشمن کی برتری کی خوش فہمی کو خاک میں ملانے والے پاک فضائیہ کے شاہینوں سے ملاقات کی۔
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور اعلی سول و عسکری قیادت بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ موجود تھی۔
پاکستان ٹیلی ویژن وزیرِ اعظم کی بھارتی فضائی جارحیت کو ناکامی سے دوچار کرنے والے پاک فضائیہ کے شاہینوں سے تاریخی گفتگو آج شام کو نشر کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاک فضائیہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔