اسلام آباد:

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم نے کسی سے سیز فائر کی درخواست نہیں کی پہلے امریکی وزیر خارجہ کا فون آیا کہ بھارت جنگ بندی چاہتا ہے تو ہم نے رضامندی ظاہر کی پھر سعودی عرب، ترکی اور چین سے فون آئے۔

سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ جنگ سے قبل ہی ہم دوست ممالک سے رابطے میں تھے، ہم نے دوست ممالک کو اپنے تحمل سے آگاہ کیا، تمام ممالک نے یہی کہا کہ دونوں ممالک ایٹمی قوت ہیں اس لیے تحمل کا مظاہرہ کریں، ہم نے ہر ملک کے سربراہ و وزیر خارجہ سے کہا کہ ہم حملے میں پہل نہیں کریں گے مگر بھارت کے کارروائی کی تو جواب ضرور دیں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پہلگام واقعہ ہوتے ہی بھارتی میڈیا نے پاکستان پر الزام عائد کردیا، پلوامہ کی طرح پہلگام پر بھی انٹرنیشنل میڈیا کو بھارت نے یہی بتایا کہ اس میں پاکستان ملوث ہے حالاں کہ پلوامہ میں بھی ثابت نہیں کرسکے تھے، اس بار پاکستان نے انڈیا کا موقف بکنے نہیں دیا، ہم نے طے کیا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، وزیراعظم نے پہلگام واقعے کی شفاف تحقیقات کی پیشکش کی مگر بھارت نہیں مانا اور کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ 7 مئی کو 70 سے 80 بھارتی طیارے پاکستان آئے اور بھارتی طیاروں نے 24 پے لوڈز (بارودی مواد) ریلیز کیے، یہ دہشت گردوں پر نہیں مساجد اور معصوم شہریوں پر گرائے، ہم نے ان کے پانچ طیارے گرائے اس واقعے نے ثابت کردیا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہے جب کہ ہمارا ایک بھی طیارہ تباہ نہیں ہوا، ہمارے جوابی حملے سے قبل ہی سکھ کمیونٹی کو ہمارے خلاف کرنے کے لیے ان کے علاقے میں بھارت نے خود بم گرائے، جھوٹ پھیلایا گیا کہ ہمارے ایف 16 وہاں گئے، امریکا نے اعلان کیا کہ کوئی ایف 16 نہ اڑا ہے اور نہ گرایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پربے بنیاد الزام تراشی بھارتی کا وطیرہ ہے، قومی سلامتی کمیٹی نے بھارت کے خلاف فوری فیصلے کیے جن پر ہم نے عمل درآمد کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے پہلے 24 گھنٹے میں 29 ڈرون پھر اگلے 24 گھنٹوں میں 80 ڈرون بھیجے، صرف ایک ڈرون نے فوجی زمین پر اٹیک کیا جس میں چار فوجی زخمی ہوئے، انہوں نے بیک وقت ہماری کئی بیسز اور ایئرپورٹ پر حملے کیے جس کا ہم نے بھرپور جواب دیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ ہم جب کارروائی کریں گے تو چھپا کر نہیں کریں گے اور ایسا ہی کیا جب ہم نے کارروائی کی تو دنیا نے دیکھی ہم نے کہا کہ حملے کی ویڈیوز ہم خود ریلیز کریں گے اور ریلیز کی، 60 کے قریب وزرائے خارجہ سے بات ہوئی اور موقف پر قائم تھے کہ حملہ ہوگا تو جواب دیں گے پہل نہیں کریں گے، ہم امن کے حامی ہیں، ہمارا جواب دنیا نے دیکھا، ٹیلی گراف نے پاکستانی فوج کی تعریف کی۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کو ہڑپ کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اسے بھی مذاکرات میں ڈسکس کریں گے، انڈس واٹر ٹریٹی ہمارے لیے جنگ کا باعث ہے، اب تو عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے بھی کہہ دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بھارت نہ توڑ سکتا ہے نہ معطل کرسکتا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ انڈیا کا کم ازکم تین ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جب کہ ہمارے ہاں جانی نقصان ہوا ہے، ہم نے کسی جگہ شہری تنصیبات پر حملہ نہیں کیا، ہمارے شہدا میں زیادہ تعداد عورتوں، بچوں اور معمر افراد کی ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے سیز فائر کی درخواست کسی سے نہیں کی، پہلے امریکی وزیر خارجہ کا فون آیا کہ بھارت جنگ بندی کے لیے راضی ہے آپ جنگ بند کریں جس پر ہم نے انہیں یقین دلایا کہ ہمارے طرف سے جنگ بندی ہے پھر اس کے آدھے گھنٹے بعد سعودی وزیر خارجہ کا فون آیا اور کہا کہ آپ کو امریکی وزیر خارجہ کا فون آیا ہوگا جنگ بندی کے لیے، ہم نے کہا کہ ہماری طرف سے جنگ بندی ہے، اس حوالے سے ترکیہ، چین اور دیگر ممالک کے بھی فون آئے، دونوں طرف ساڑھے چار بجے جنگ بندی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اب عالمی ڈپلومیسی میں غیر اہم ملک نہیں پاکستان اپنی اہمیت ثابت کرچکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیر خارجہ کا فون ا اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ بھارت نے کہ بھارت نہیں کی کریں گے

پڑھیں:

اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال

اسلام آباد نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا اور پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی، برادرانہ اور دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے حالیہ علاقائی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مؤثر مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی روابط ہی مسائل کے پائیدار حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعاون کے فروغ، باہمی اعتماد میں اضافے اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں روابط کو مزید مستحکم بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) کے تحت طے پانے والے نکات پر مؤثر عملدرآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کی قیادت خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر متفق ہے، جبکہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات، علاقائی امن کے لیے سفارتی روابط جاری رکھنے پر اتفاق
  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اہم ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • : نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
  • چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر
  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان