ٹرمپ کے اعلان کے بعد غزہ کے شہریوں میں خوشی کی لہر
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
غزہ، واشنگٹن، دوحا (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد غزہ کے شہریوں میں خوشی کی لہر، اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کی بھی جنگ بندی اپیل، دوسری طرف حماس آمادگی اور بمباری روکنے کےٹرمپ مطالبےکے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری رہے جن میں مزید 66 فلسطینی شہید کردئیے گئے۔
المواسی، نصیرات اور تُّفّاح میں خواتین و بچے نشانہ، سیکڑوں زخمی، خوراک ادویات ناپید، اسپتال تباہ، بے گھر فلسطینی ملبے پر خیمے گاڑنے پر مجبور، امیدیں روشن، مگر اسرائیلی بمباری جاری، حماس کی امن منصوبے پر آمادگی کا عالمی خیر مقدم، اردوان نے امن کا موقع قرار دیدیا، یو این اور ڈبلیو ایچ او کی بھی حمایت، ٹرمپ کا منصوبہ حماس کیلئے ہتھیار ڈالنے کے مترادف، اسرائیل نے 137فلوٹیلا کارکنوں کو ترکی بھیج دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے اعلان اور حماس کی مشروط آمادگی کے باوجود اسرائیل کی غزہ پر بمباری اور فائرنگ بدستور جاری ہے، جسکے نتیجے میں صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں 66 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جنگ میں شہادتوں کی تعداد 67 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ایک لاکھ 69 ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔
ٹرمپ نے حماس کے بیان کے بعد کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ حماس “دائمی امن” کیلئے تیار ہے اور اسرائیل کو بمباری فوراً روکنی چاہیے، لیکن اسرائیل نے نہ صرف حملے جاری رکھے بلکہ المواسی، نصیرات اور تُّفّاح سمیت کئی علاقوں میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا۔
المواسی کو اسرائیلی فوج نے “محفوظ انسانی زون” قرار دیا تھا، مگر وہاں بھی بمباری میں دو بچے شہید اور آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔ ادھر قطر یونیورسٹی کے پروفیسر عدنان حیجنہ نے کہا کہ ٹرمپ کا منصوبہ تقریباً حماس کیلئے “ہتھیار ڈالنے” کے مترادف ہے، اسی لیے تنظیم اپنے یرغمالیوں کو آخری سودے بازی تک محفوظ رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات متوقع ہیں جو قاہرہ میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی موجودگی میں ہوسکتے ہیں۔ سیکورٹی ماہر راشد المہنادی کے مطابق امریکا ہی واحد طاقت ہے جو نیتن یاہو پر عملی دباؤ ڈال سکتی ہے تاکہ منصوبے کا پہلا مرحلہ نافذ ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حماس کی
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔