اسحاق ڈار کا مصری اور سعودی ہم منصب سے رابطہ‘ غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251005-08-23
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار نے مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ اسحق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، اس دوران گفتگو میں دوطرفہ تعلقات کے اہم امور اور علاقائی پیش رفت بالخصوص غزہ کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نائب وزیراعظم نے ان کوششوں کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جس کا مقصد فوری اور پائیدار جنگ بندی۔ بلا روک ٹوک انسانی امداد کو یقینی بنانا اور غزہ میں پائیدار امن کے حصول کے لیے اجتماعی اقدامات کو آگے بڑھانا ہے۔مزید یہ کہ حالیہ پیش رفت میں مجوزہ امن منصوبے پر حماس کا ردعمل بھی شامل ہے جو خونریزی کے خاتمے کی امید پیش کرتا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول میں مدد کے لیے اپنی کوششوں میں مصروف اور مربوط رہنے پر اتفاق کیا۔ دوسری جانب، نائب وزیراعظم اسحق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کے درمیان بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں وزرائے خارجہ نے غزہ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، اسحق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ کے تعمیری کردار کو سراہا۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ گفتگو کے درمیان پاک-سعودی قیادت نے فوری جنگ بندی کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا اور غزہ میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔دونوں رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کی تجویز پر حماس کے ردعمل پر گفتگو کی اور فلسطینی عوام کی بھرپور حمایت کے عزم کا اعادہ کیا جب کہ دو ریاستی حل پر مبنی جامع اور پائیدار امن کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تبادلہ خیال صورتحال پر اسحق ڈار غزہ کی کے لیے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔