ڈی جی آئی ایس پی آر کا بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں تیز اور یقینی جواب کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
ڈی جی آئی ایس پی آر کا بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں تیز اور یقینی جواب کا عزم WhatsAppFacebookTwitter 0 15 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر)لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا پاکستان کی طرف سے فوری اور یقینی جواب دیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کا پاکستان کی طرف سے فوری اور یقینی جواب دیا جائے گا، اور انہوں نے متنبہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سنگین کشیدگی باہمی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ جنگ کی حمایت کر کے، بھارت باہمی تباہی کا نسخہ تیار کر رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اب دنیا جوہری خطرے کی وسعت کو تسلیم کرتی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے مزید کہا، امریکا جیسا کوئی بھی ملک اس حماقت اور اسے سمجھتا ہے جو کچھ بھارتی یہاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کشمیر میں بھارت کے اقدامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے بھارت پر (مقبوضہ کشمیر میں)بھاری فوجی موجودگی کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کو داخلی بنانے اور عوام کو ہراساں کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق کشمیری عوام کو حل کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو کوئی بھی ہماری علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کرے گا، تو ہمارا جواب منہ توڑ ہوگا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ یقینی باہمی تباہی کے تصور کے تحت بھارت اور پاکستان کے درمیان سنگین کشیدگی دونوں ممالک کو تباہ کر دے گی
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحج سے محروم پاکستانی عازمین کیلئے وزارت مذہبی امور کی آخری کوشش، سعودی حکام کو درد بھرا خط لکھ دیا حج سے محروم پاکستانی عازمین کیلئے وزارت مذہبی امور کی آخری کوشش، سعودی حکام کو درد بھرا خط لکھ دیا سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے بھارت کے نیو نارمل جیسے بیانات کو بے بنیاد قرار دیدیا پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کی سمری تیار لیکن آج پھر ہاتھ ہونے کا خدشہ پاکستان نے امریکا کو زیرو ٹیرف دو طرفہ تجارتی معاہدے کی پیشکش کردی وزیراعظم کی بھارت طیاروں کو تباہ کرنے والے پاک فضائیہ کے شاہینوں سے ملاقات پوری قوم اپنی بہادرافواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک و قوم کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے،چیئرمین سی ڈی...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی اور یقینی جواب کی خلاف ورزی ایس پی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔