اسلام آباد( اوصاف نیوز)آزادکشمیر کے ضلع پلندری کے علاقہ بارل اوری میںسنگدل ماںنے اپنے سگے بچے کو زیردے کر قتل کردیا ، بچے نے ماں کی موجودگی میں زیر کا گلاس پی لیا جبکہ سنگدل ماں ویڈیو بناتی رہی ۔

آزادکشمیر کے علاقے بارل میں پیش آئے درد ناک واقعہ کی وائرل ویڈیو نے انسانیت کوہلا کر رکھ دیا۔ذہنی معذور بچے نے ماں کی موجودگی میں زہر پیا اور ہسپتال پہنچ کرجان دیدی۔واقعہ کا مقدمہ درج کرکے ملزمہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں ایک 12 سے14 سال کا لڑکا کرسی پر بیٹھا ہے اور اس کیساتھ پانی کا گلاس بھی رکھا ہے۔

ویڈیو کے شروع میں ہی بچی( مبینہ طور پر لڑکے کی بہن) ہندکو میں گفتگو کرتے ہوئے اسے کہتی ہے کہ یہ خود ہی کھا رہے ہو کسی نے تو نہیں کہا،نہ کھانا مرجائوگے،ویڈیو میں دو بچیاں بول رہی ہوتی ہیں اور بار بار کہتی ہیں کہ خود کھا رہے ہو ہم نے تو نہیں کہا، کھائو گے تو مرو گے۔

لڑکی اپنی ماں کو کہتی ہے کہ چوہےمار گولیاں کھا رہا ہے، بعد میں لڑکی اپنی والدہ کو بتاتی ہے کہ اس نے کھا لی ہے امی زہر ،میں آپ کو ویڈیو بھی دکھائوں گی، لڑکا ویڈیو میں یہ بھی کہتا ہے کہ رحیم سے زہر لائی ہے۔

اس دوران لڑکی یہ بھی کہتی ہے سب کو کال کرکے بتا دیں کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے لڑکے کو قتل کیا گیا اور اسے مجبور کیا گیا کہ وہ زہر کھا لے۔

بہن کی باتوں سے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ اسے جھوٹی کہانی گھڑنے کی تربیت دی گئی تھی۔ ماں کی خاموش موجودگی اور ویڈیو بننے کے دوران بےحسی نے عوامی غم و غصے کو مزید بھڑکا دیا ہے۔

تھانہ پولیس پلندری میں لڑکے کے والد محمد سعید کی طرف سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق وہ18مئی کو اپنے بھائیوں کے ہاں گیا تھا تو اطلاع ملی کہ بیٹے بلال نے کوئی زہریلی چیز کھا لی ہے۔

بلال کے والد کے مطابق جب وہ ڈسٹرکٹ ہسپتال پلندری پہنچا تو بیٹا فوت ہوچکا تھا جس کی لاش لے کر گھر گیا اور تدفین کردی۔محمدسعید کے مطابق اسے بعد میں معلوم ہوا کہ اس کی بیوی فرزانہ کوثر نے دیگر لوگوں کی سہولت کاری سے بیٹے کو زہریلی چیز دے کر مارا۔

محمد سعید نے اپنی بیوی پر الزام لگایا ہے کہ وہ بدکردار ہے ، اس کا بیٹا رکاوٹ بنتا تھا جس کی وجہ سے اسے قتل کیا گیا ۔پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی ہ جس سے حقائق سامنے آئیں گے لیکن ایک معصوم بچے کی ویڈیو نے معاشرے کو ہلاکررکھ دیا ہے۔
مودی کے سر پر جنگ سوار؛ بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری ڈوبنے لگی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام

سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔

یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟

30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:

’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘

اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔

ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:

’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘

اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔

اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔

        View this post on Instagram                      

حقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟

اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔

ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔

اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:

’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘

"An Indian thrashed in Thailand." ????

A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.

As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF

— Suraj Kumar Bauddh (@SurajKrBauddh) January 3, 2026

 

دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔

خبر کی سرخی تھی:

’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘

رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔

ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔

فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار

یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جھانوی کپور کی وائرل ویڈیو، پروموشنل ایونٹ میں خوفزدہ ردعمل
  • رام چرن کا ہمشکل جنونی مداح جھانوی کپور پر جھپٹ پڑا، ویڈیو وائرل
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور