حکومت اب بجلی نہیں خریدے گی، وزیراعظم جلد نیشنل ٹیرف پالیسی کا اعلان کریں گے: وزیر توانائی
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس لغاری کا کہنا ہے کہ حکومت اب بجلی نہیں خریدے گی اور وزیر اعظم جلد نیشنل ٹیرف پالیسی کا اعلان کریں گے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان کو ایکسپورٹ پر مبنی (Export oriented) ملک بنانے کا فیصلہ ہوچکا ہے ، اس کے بغیر کوئی راستہ نہيں، برآمدی شعبے کے لیے خطے کی سستی ترین بجلی کی فراہمی کے منصوبے پر کام کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اب بجلی نہیں خریدے گی، وزیراعظم جلد نیشنل ٹیرف پالیسی کا اعلان کریں گے جس سے تین سے ساڑھے تین لاکھ تک نوکریاں پیدا ہوں گی۔
وفاقی وزیر توانائی نے مزید کہا کہ بجلی کی قیمت میں کمی پر کسی خوش فہمی کا شکار نہیں، پاور سیکٹر میں پائيدار اصلاحات پر کام کر رہے ہيں۔
بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا 24 کروڑ لوگوں کی بقا کیلئے خطرہ ہے، پاکستان کا انتباہ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔