عید قربان قریب آتے ہی کراچی میں جانوروں کے اتائی کلینکس کی بھرمار
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
کراچی:
عید قرباں قریب آتے ہی کراچی میں جانوروں کے اتائی کلینکس کی بھرمار لگ گئی۔
عید الاضحی کی آمد پر ملک کے مختلف شہروں سے لائے جانے والے قربانی کے جانوروں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری ہے، قربانی کے جانوروں کراچی کی مختلف مویشی منڈیوں میں پہنچائے جارہے ہیں، کراچی لائے جانے والے جانوروں کا میڈیکل چیک اپ ہوتا ہے یا نہیں اس بارے میں عوام بھی لاعلم ہیں اور متعلقہ محکمہ بھی کوئی آگاہی فراہم نہیں کرتا جبکہ ان منڈیوں میں جانوروں کی طبی دیکھ بھال کا بھی کوئی انتظام نہیں ہوتا۔
کراچی میں لائے جانے والے جانوروں کی دیکھ بھال اور انکو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے ویٹرنری (Veternary) ڈاکٹرز کی کمی کا سامنا ہے جبکہ کراچی میں جانوروں کی رجسڑیشن اور شناخت کا بھی کوئی میکنیزم موجود نہیں ہے، مویشی منڈیوں میں لائے جانے والے جانوروں کی کسی بھی قسم کی ویکسین بھی نہیں کروائی جاتی اور نہ ہی ان جانورں کو صحت مندانہ خوراک فراہم کی جاتی ہے۔
مویشی منڈیوں میں گندگی اور غلاظت کی وجہ سے جانور مختلف بیماریوں کا شکار بھی ہوجاتے ہیں، ان جانوروں میں بیشتر جانور کانگو وائرس کا بھی شکار ہوتے ہیں، عید قرباں کے موقع پراب تک کراچی میں 15 سے 17 لاکھ چھوٹے بڑے جانور لائے جاچکے ہیں۔
دوسری جانب عید قربان کے موقع پر شہر کے مختلف علاقوں میں ہر سال جانوروں کے اتائی کلینک قائم کیے جاتے ہیں جہاں لائے جانے والے بیمار جانوروں کو ایک ہی قسم کے اینٹی بائیوٹیک انجیکشن لگائے جاتے ہیں، امسال ایک جانور کو چیک کرنے کی ایک ہزار فیس وصول کی جارہی ہے جبکہ شہری انتظامیہ کی جانب سے ان غیر قانونی جانوروں کے اتائی کلینکس کو چیک کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے، لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ سمیت کوئی بھی ادارہ ان کلینکوں کی تصدیق نہیں کرتا۔
ان اتائی کلینکوں میں جانوروں کا علاج علامات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، حکومت سندھ کے حکام ان کلینکوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں تاہم ان کلینکوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی نظر نہیں آتی۔ شہر میں ان کلینکوں پر لائے جانے والے جانوروں کو بے دردی کے ساتھ غیر ضروری اینٹی بائیوٹیک دی جاتی ہے جس کہ وجہ جانوروں کی جانیں بھی خطرے سے دورچار ہوجاتی ہے۔ ان کلینکوں پر جانوروں کی بیماری کی تشخیص کا کوئی انتظام موجود نہیں ہوتا اور ایک ہی اینٹی نائیوٹک انجیکشن کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے اور اکثر اوقات ان کلینکوں میں جانوروں کی اموات بھی دیکھنے میں آتی ہیں۔
ڈائر یکٹر ویٹنری لائیو اسٹاک ڈاکٹر حزب اللہ بھٹو نے ایکسپریس ٹریبیون سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہرسال عیدقرباں کے موقع پر جانوروں کے علاج کے نام پر غیر مستند اتائی کلینک کھولے جاتے ہیں جو غیر قانونی ہے، ان اتائی کلینکس پر کام کرنے والے ویٹرنری ڈاکٹر نہیں ہوتے، ان کے خلاف کاروائی کرنا ڈسٹرکٹ ایڈمینسٹریشن کی ذمہ داری ہوتی ہے جبکہ کراچی میں لائے جانے والے جانوروں کی ریجسٹریشن میونسپل ایڈمینسٹریشن کی ہوتی ہے، کراچی میں لائے جانے والے جانور پر 600 روپے ٹیکس میونسپل ایڈمینسٹریشن وصول کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کا کام اطلاع ملنے پر بیمار جانوروں کو چیک کرنا ہوتا ہے، لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کو مویشی منڈی کے اندر میڈیکل کیمپ لگانے کی اجازت نہیں ہوتی، ہم اپنا میڈیکل کیمپ مویشی منڈی کے باہر لگاتے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ عید قرباں کے موقع پر لائے جانے والے جانوروں کی کوئی ویکیسنیشن نہیں ہوتی کیونکہ ان جانوروں کو عارضی طور پر لایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں ویٹر نری (Veternary) ڈاکٹرز کی تعداد صرف 990 ہے اور یہ ڈاکٹرز بیمار جانور کو چیک کرتے ہیں۔ عید قرباں کے موقع پراب تک کراچی میں 15 سے 17 لاکھ چھوٹے بڑے جانور لائے جاچکے ہیں، پنچاب اور بلوچستان کے باڈر پر جانوروں کے چیک اپ کیلئے 10 کیمپ لگائے گئے ہیں، انہوں نے مزید بتایا کہ بڑے پیمانے پر جانوروں کی ایک سے دوسرے صوبے میں منتقلی کی وجہ سے جانوروں میں بیماریوں کے امکانات ہوتے ہیں۔
کمشنر کراچی کے ترجمان غلام محمد خان نے بتایا کہ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ عید قرباں کے موقع پر جانوروں کے اتائی کلینکس قائم کیے جارہے ہیں، کمشنر کراچی آفس سے انکو متنبہ کیا جاتا ہے کہ جانوروں کے اتائی کلیننکوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی، اس سلسلے میں ترجمان نے عوام سے کہا ہے کہ شہر میں قائم اتائی کلینکس کے خلاف کمشنر آفس فون نمبر 021-99203443 پر مطلع کریں۔
ویٹرنری ڈاکٹر ارشاد عباسی نے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ عید قرباں کے موقع پر جانوروں کے اتائی کلینک کراچی سمیت سندھ بھر میں قائم کرلیے جاتے ہیں، عام آدمی اس بات سے لاعلم ہوتا ہے کہ اس کلینک پر مستند ویٹنری ڈاکٹر موجود ہے یا نہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ ان کلینکوں پر ایک ہی قسم کی سستی والی اینٹی بائیوٹیک استعمال کی جاتی ہے جو جانور کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہری انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جانوروں کے اتائی کلینکوں کے خلاف موثر اقدامات کریں اور ان کلینکس کے خلاف موثر قانون سازی کو یقینی بنائیں۔ پاکستان میں جانوروں کی طبی حقوق کا کوئی وجود نہیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ موسم میں جانوروں میں منہ اور کھر سمیت دیگر بیماریاں عام ہوجاتی ہیں لہذا قربانی کے جانور کی خریداری دن کے اوقات میں کرنی چاہیے، خریداری کے وقت جانوروں کے کھر(پاؤں) اور منہ ضرور چیک کرنا چاہئیں کیونکہ جانوروں میں کھر اور منہ کی بیماریاں بہت عام ہوتی ہیں۔
جانور کی خریداری کے وقت یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ جانور سست اور پیٹ پھولا ہوا نہ ہو، جانوروں کی خریداری کے وقت ہلکے کلر کے کپڑے اور فل استین والے کپڑے پہننے چاہئیں تاکہ جانوروں کے جسم پر لگے ہوئے کیڑوں سے انسانی جان محفوظ رہ سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لائے جانے والے جانوروں کی لائے جانے والے جانور عید قرباں کے موقع پر میں جانوروں کی پر جانوروں کے لائیو اسٹاک جانوروں کو منڈیوں میں ان کلینکوں کراچی میں انہوں نے بتایا کہ جاتے ہیں کہ جانور جاتی ہے کے خلاف جاتا ہے کو چیک
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔