محکمہ جنگلات اور بینک آف پنجاب کے اشتراک سے برانچ لیس بینکاری کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ پنجاب کی سینئر وزیر کے مطابق یہ منفرد قدم عالمی معیار کی گڈ گورننس اور مالی شفافیت کی جانب اہم پیش رفت ہے اور یہ نظام مزدور طبقے کا اعتماد بحال کرے گا اور انہیں مالی تحفظ فراہم کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے محکمہ جنگلات میں برانچ لیس بینکاری نظام نافذ کردیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے محکمہ جنگلات میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کے لیے شفاف اور باعزت ادائیگی نظام متعارف کرایا ہے اور اس برانچ لیس بینکاری نظام کے تحت مزدوروں کو اجرت براہ راست موبائل بینکنگ اکاؤنٹس میں ملے گی جس کی تصدیق ایس ایم ایس اور بائیو میٹرک کے ذریعے ہوگی۔

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ شفافیت وزیراعلیٰ کا مشن ہے اور یہ اقدام اس وژن کی عملی تعبیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سرکاری ادائیگی کے نظام میں شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے گی اور نقدی نظام میں بدعنوانی، تاخیر اور کٹوتی کے مسائل اب ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔

محکمہ جنگلات اور بینک آف پنجاب کے اشتراک سے برانچ لیس بینکاری کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ مریم اورنگزیب کے مطابق یہ منفرد قدم عالمی معیار کی گڈ گورننس اور مالی شفافیت کی جانب اہم پیش رفت ہے اور یہ نظام مزدور طبقے کا اعتماد بحال کرے گا اور انہیں مالی تحفظ فراہم کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر شعبے میں ٹیکنالوجی، شفافیت اور عوامی بھلائی کو ترجیح دی جا رہی ہے اور محکمہ جنگلات نے ایک مثال قائم کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: برانچ لیس بینکاری محکمہ جنگلات ہے اور کرے گا

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟