سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے 184 ملین سے زائدل لاگ-اِن کریڈنشیئلز لیک
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
حال ہی میں ایک سنگین ڈیٹا لیک سامنے آیا ہے جس میں 184 ملین سے زائد صارفین کے لاگ اِن کریڈینشلز (یوزرنیمز اور پاسورڈز) افشا ہو گئے ہیں۔
یہ معلومات ایک غیر محفوظ اور بغیر پاسورڈ کے Elasticsearch ڈیٹا بیس میں موجود تھیں، جسے سیکیورٹی ریسرچر جیریمیا فاؤلر نے رواں ماہ دریافت کیا۔
متاثرہ پلیٹ فارمز میں ایپل، نیٹ فلکس، پے پال، گوگل، فیس بک، روبلوکس، اسنیپ چیٹ، اور مائیکروسافٹ جیسے دیگر معروف سروسز شامل ہیں۔
لیک کردہ معلومات میں بینک اکاؤنٹس، ہیلتھ پلیٹ فارمز، اور کم از کم 29 ممالک کی سرکاری ای میل ڈومینز (gov.
ماہرین کے مطابق یہ ڈیٹا ممکنہ طور پر "انفوسٹیلر" مالویئر کے ذریعے جمع کیا گیا ہے جو متاثرہ کمپیوٹرز سے لاگ اِن کریڈینشلز چوری کرتا ہے۔
ڈیٹا بیس میں کسی قسم کی شناختی معلومات موجود نہیں تھیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ڈیٹا سائبر کرمنلز یا تحقیقاتی مقاصد کے لیے جمع کیا گیا ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لاگ ا ن
پڑھیں:
مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی مومنہ اقبال حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔ لاہور میں ان کی دعائے خیر ، مہندی ، مایوں اور نکاح کی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کے دلہا حمزہ حبیب کا تعلق لاہور سے ہے، وہ کامیاب اور مالی طور پر مستحکم کاروباری شخصیت ہیں تاہم وہ ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رہے۔ حالیہ دنوں میں مومنہ اقبال کو (ن ) لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کے معاملے پر حمزہ حبیب اپنی اہلیہ کی حمایت میں سامنے آنے کے بعد خبروں کا مرکز بن گئے۔ حمزہ حبیب کے مطابق ان کی اور مومنہ اقبال کی منگنی خاندانوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی جب کہ دونوں خاندانوں کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات بھی ہیں۔ جوڑے نے مئی 2026 کے آخر میں ایک نجی تقریب میں نکاح کیا تھا۔ اس سے قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی سوشل میڈیا سٹوری کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اپنی تحقیقات کررہی ہے۔