لندن(اوصاف نیوز) پنجاب کا طالبعلم ایف بی آئی کی نظروں میں اچانک کیسے آگیا اور کیوں گرفتار ہوا۔ چار سال قبل گرفتار ہونے والے پاکستانی طالبعلم کی گرفتاری کی داستان برطانوی خبررساں ادارے بی بی بی سی اردو نے شائع کرکے نئے سوالات اٹھادیئے ۔

خبر رساں ادارے کے مطابق آج سے لگ بھگ چار سال قبل پاکستان سے ’ابنِ عبداللہ الپاکستانی‘ نامی ایک انسٹاگرام صارف نےعراق میں موجود ایک دوسرے صارف سے ’گھر بیٹھے بم بنانے کی ترکیب‘ جاننے کے لیے بات چیت کی۔

انسٹاگرام پر جب وہ ’پروفیشنل کوک 67‘ نامی صارف سے امونیم نائیٹریٹ، سلفر، امونیم پاؤڈر، چارکول اور دیگر اجزا وغیرہ کے استعمال سے ’بم بنانے کی ابتدائی تربیت لینے کی کوشش کر رہے تھے‘ تو انھیں یقینا یہ نہیں معلوم تھا کہ کوئی اور بھی ان کی گفتگو پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

اس بات کا علم صوبہ پنجاب کے ضلع نارووال کے رہائشی اس نوجوان طالب علم کو پہلی مرتبہ اس وقت ہوا جب اس گفتگو کے چند ماہ بعد لاہور سے فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی کے انسداد دہشت گردی وِنگ کے اہلکاروں نے لبرٹی مارکیٹ کے علاقے سے انھیں گرفتار کر لیا۔

ان کے دو فون ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیرارزم (یعنی انسداد دہشت گردی) ونگ کے اہلکاروں نے موقع پر ہی قبضے میں لے لیے اور نارروال یونیورسٹی میں ہیومن ریسورس مینیجمنٹ کے اس طالب علم کو تفتیش کے لیے تھانے منتقل کیا گیا۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے جاننا چاہتے تھے کہ یہ نوجوان طالب علم بم بنانے کی ترکیب کیوں جاننا چاہتا تھا؟ اس نے ان معلومات کے ساتھ کیا کیا؟ کیا اس کا تعلق کسی دہشت گرد تنظیم سے تھا اور کیا اس نے حاصل کی گئی معلوم کسی اور شخص تک بھی پہنچائی ہیں؟

ایف آئی اے کو ’ابن عبداللہ الپاکستانی‘ نامی صارف کی اس بات چیت کا کیسے معلوم ہوا جو انسٹاگرام پر ایک پرائیویٹ چیٹ پر کی گئی تھی اور یہ کیسے معلوم ہوا کہ وہی اس فرضی نام کے اکاونٹ کے مالک تھے؟

اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے ایف آئی اے کے آفیسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر اظہر ریاض نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان سے پوچھ گچھ کے دوران طالب علم نے یہ تسلیم کیا کہ وہی اس انسٹاگرام اکاؤنٹ کے مالک تھے۔

ان کے مطابق یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ ’انھوں نے عراق میں موجود ایک انسٹاگرام اکاونٹ سے بم بنانے کی ترکیب کے بارے معلومات حاصل کی تھیں۔‘

ایف آئی اے اہلکار کے مطابق انھوں نے جو معلومات حاصل کیں ان میں بم بنانے میں استعمال ہونے والے اجزا کے علاوہ یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ بلاسٹنگ سوئچ کہاں نصب کرنا ہو گا۔

دوران تفتیش ایف آئی اے کو طالب علم نے بتایا کہ وہ یہ معلومات ’تعلیمی مقاصد‘ کے لیے حاصل کر رہے تھے۔ تاہم ایف آئی اے نے ان کی یونیورسٹی میں ان کے اساتذہ سے بھی معلومات لیں جہاں وہ بی بی اے آنرز کی ڈگری میں مارکیٹنگ کی تعلیم لے رہے تھے۔

اساتذہ نے تحقیق کاروں کو بتایا کہ ان کی ڈگری کے لیے انھیں اس نوعیت کی کسی معلومات کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی انھیں ایسی کوئی اسائنمنٹ دی گئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات مکمل ہونے پر طالب علم کو جیل بھیج دیا گیا تاہم بعد میں وہ ضمانت پر رہا ہو گئے۔

ان کے خلاف تحقیقات اور عدالت میں مقدمہ چلتا رہا جس کے دوران وہ اپنے بیان پر قائم رہے کہ وہ صرف ’تعلیمی مقصد‘ کے لیے یہ معلومات لے رہے تھے۔
پاکستان کا ایک اور بڑا معرکہ / نوجوان باکسر بانو بٹ کی بھارتی حریف پر تاریخی فتح
ایک بزنس سٹڈیز کے طالب علم کو اچانک بم بنانے میں دلچسپی کیوں ہوئی؟ کیا ان کا کسی تنظیم یا کسی تیسرے شخص سے کوئی رابطہ تھا؟ ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیرارزم ونگ نے اپنی تحقیقات مکمل کر کے عدالت میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی۔

حال ہی میں لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے طالب علم کے خلاف جرم ثابت ہونے پر انھیں ڈھائی برس قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ملزم کو ’کم سے کم سزا اس لیے سنائی گئی ہے کہ ان کے خلاف صرف ممنوعہ معلومات حاصل کرنے کا جرم ثابت ہوا۔ یہ ثابت نہیں ہوا کہ انھوں نے ان معلومات کو آگے پھیلایا یا ان کا استعمال کرنے کی کوشش کی۔‘

ایف آئی اے کے تحقیقاتی افسر نے عدالت کو بتایا کہ انھیں امریکہ کی فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن یعنی ایف بی آئی کی طرف سے ملزم کے خلاف شکایت موصول ہوئی۔

ایف بی آئی نے پاکستان میں امریکی سفارتخانے کی مدد سے یہ شکایت پاکستان کی وفاقی حکومت تک پہنچائی جس نے ایف آئی اے کو اس کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔

ایف آئی اے کے تحقیقاتی افسر اظہر ریاض نے بی بی سی کو بتایا کہ ’امریکی ایف بی آئی نے ملزم کی عراق سے چلائے جانے والے اکاؤنٹ کے ساتھ گفتگو کی تفصیلات اور جس ای میل ایڈریس سے ان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ابن عبداللہ الپاکستانی بنایا گیا تھا وہ پاکستانی حکام کو فراہم کیا۔‘

’ہم نے پہلے تصدیق کی کہ وہ ای میل ایڈریس کس کے استعمال میں اور کہاں سے استعمال ہوا۔ جب ملزم کو گرفتار کیا گیا تو ان کے زیرِ استعمال دونوں فون قبضے میں لیے گئے۔ ان کو فرانزک تجزیے کیے لیے بھجوایا گیا۔‘

تحقیقاتی افسر کے مطابق فرانزک تجزیے نے یہ ثابت کیا کہ وہی طالب علم ہی اس ای میل ایڈریس کے مالک تھے۔ ’انھوں نے اس کی مدد سے انسٹاگرام پر مذکورہ اکاؤنٹ بنایا اور پھر اس اکاؤنٹ سے ہی بم بنانے کا طریقہ جاننے کے لیے معلومات حاصل کیں۔‘

ایف آئی اے کے تحقیقاتی افسر اظہر ریاض نے بتایا کہ طالب علم کے موبائل فوننز کے فرانزک تجزیے کے دوران کچھ دیگر معلومات بھی سامنے آئیں۔

’تجزیے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ انھوں نے یوٹیوب پر بم بنانے کی ویڈیوز بھی دیکھیں۔ اس کے ساتھ ہی آن لائن خریداری کی امریکی ویب سائٹ ایمازون پر انھوں نے بم بنانے کے ان اجزا کو بھی تلاش کیا جو انھوں نے انسٹاگرام اکاونٹ سے حاصل کی تھیں۔‘

’انھوں نے ایسے کسی اجزا کی خریداری نہیں کی، صرف اسے ایمازون پر ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ اسی طرح ہمیں ایک لنک یوٹیوب کا ایسا ملا جس میں انھوں نے بم بنانے کا طریقہ دیکھنے کی کوشش کی۔‘

تاہم اظہر ریاض کا کہنا تھا کہ دوران تحقیقات انھیں اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ طالب علم نے حاصل کی گئی معلومات استعمال کر کے کوئی دھماکہ خیز مواد بنانے کی کوئی کوشش کی تھی۔

ایف آئی اے کے مطابق انھیں طالب علم کے خلاف شکایت امریکی تحقیقات ادارے ایف بی آئی کی طرف سے موصول ہوئی جس کے بعد انھوں نے مقامی سطح پر تحقیقات کے بعد انھیں گرفتار کیا۔

تو سوال یہ ہے کہ ایف بی آئی کو طالب علم کی انسٹاگرام پر ہونے والی چیٹ کی گفتگو کو کیسے علم ہوا؟

ڈیجیٹل حقوق کی تنطیم ’بولو بھی‘ کے ڈائریکٹر اور ڈیجیٹل سکیورٹی کے علمبردار اسامہ خلجی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس بات کے امکانات ہو سکتے ہیں کہ امریکی تحقیقاتی ادارہ ان کی اس کمیونیکیشن سے واقف تھا۔

’ایک تو انسٹا گرام پر چیٹ وغیرہ انکرپٹڈ یعنی خفیہ نہیں ہوتیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خفیہ ایجنسیوں یا اداروں کی اس تک رسائی ہو سکتی ہے۔‘

اسامہ خلجی نے بتایا کہ وکی لیکس کے بانی جولیئن اسانج جو دستاویزات منظر عام پر لائے تھے اس سے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ ’ایران کے بعد پاکستان وہ دوسرا ملک تھا جس میں ڈیجیٹل جاسوسی سب سے زیادہ رہی تھی۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’انسٹاگرام کی مالک کمپنی یعنی میٹا کا تعلق امریکہ سے ہے۔ وہاں کے قوانین کے مطابق ایف بی آئی اور دیگر تحقیقاتی ادارے ایسی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جو پبلک کے لیے خطرناک تصور کی جائیں۔‘

’اگر اس شخص نے ایسی معلومات حاصل کرنے کے لیے انسٹاگرام پر چیٹ کا استعمال کیا تو عین ممکن ہے کہ انھوں نے جو الفاظ لکھے وہ ان ’کی ورڈز‘ (مخصوص اصلاحات) میں شامل تھے جن کے لکھنے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز الرٹ ہو جاتے ہیں۔‘

اسامہ خلجی کے مطابق ’عین ممکن ہے کہ ان مخصوص اصلاحات کی وجہ سے انسٹاگرام ایف بی آئی یا تحقیقاتی اداروں کو خبردار کیا اور اس کے بعد ایف بی آئی نے از خود جائزہ لینے کے بعد پاکستان میں حکام کو خبردار کیا۔‘

’اس نے محض تجسس میں یہ معلومات لینے کی کوشش کی‘
ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اظہر ریاض کے مطابق انھوں نے اس بات کی مکمل چھان بین کی کہ سزا پانے والے طالب علم کے کسی انتہا پسند تنظیم یا شخص کے ساتھ کو روابط تو نہیں تھے۔

’ہم نے نارووال میں پولیس کے کاونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے بھی ان کی مکمل تحقیقات کروائیں۔ سی ٹی ڈی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ طالب علم کے ایسے کسی رابطے کی تصدیق نہیں ہوئی اور نہ ہی ماضی میں ان کا اس قسم کا کوئی ریکارڈ سامنے آیا ہے۔‘

سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے بعد ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی کہ ’طالب علم نے محض تجسس میں یہ ممنوعہ معلومات حاصل کیں۔ انھیں شاید اندازہ نہیں تھا کہ اس کی وجہ سے ان کے لیے قانونی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔‘

ایف آئی اے کے افسر کے مطابق یہی وجہ تھی کہ عدالت نے انھیں کم سزا دی۔

انھیں صرف پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے ان قوانین کی خلاف ورزی پر سزا دی گئی جن کے مطابق اس قسم کی ممنوعہ معلومات کا حصول جرم ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ سزا 10 سال ہو سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: معلومات حاصل کی انسٹاگرام اکاو تحقیقاتی افسر ایف ا ئی اے کے انسٹاگرام پر طالب علم کے بم بنانے کی طالب علم کو طالب علم نے کی تحقیقات ایف بی ا ئی کی کوشش کی کے مطابق ا اظہر ریاض معلوم ہوا بتایا کہ انھوں نے اکاو نٹ کے خلاف کے ساتھ رہے تھے کے لیے تھا کہ اس بات کے بعد یہ بھی

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان