عید قرباں: پاکستان کی معیشت کو کتنا فائدہ ہوتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
عید قرباں نہ صرف مسلمانوں کا بڑا مذہبی تہوار ہے بلکہ یہ کسی بھی ملک کی معیشت میں بھی نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ عید قرباں کی آمد پر چھریاں اور ٹوکے فروخت کرنے والوں، قصائیوں، چمڑے اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کو بھی روزگار کے بہترین مواقع فراہم ملتے ہیں۔
یہ مذہبی تہوار عوام کے روزگار اور پاکستانی معیشت کے لیے کس قدر بہترین موقع ہوتا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔
معاشی ماہر راجہ کامران کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ نہ صرف مذہبی اہمیت کی حامل ہے بلکہ یہ ایک بڑی معاشی سرگرمی بھی بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں عیدالاضحیٰ 2025 کب ہوگی؟ سپارکو نے پیشگوئی کردی
انہوں نے کہا کہ اس موقعے پر موشیوں کی خریدوفروخت زوروں پر ہوتی ہے جس کے لیے شہروں میں خصوصی مویشی منڈیاں قائم کی جاتی ہیں جہاں ماضی میں ہر شہر میں صرف ایک منڈی لگا کرتی تھی، اب تقریباً ہر علاقے میں منڈیاں لگائی جاتی ہیں جس سے یہ سرگرمی مزید وسعت اختیار کر چکی ہے۔
اس عمل کے دوران پیسہ شہروں سے دیہی علاقوں کی جانب منتقل ہوتا ہے جو کہ ایک منفرد معاشی رجحان ہے کیونکہ عمومی طور پر اشیا دیہات سے شہروں کی جانب آتی ہیں۔ قربانی کے جانوروں کی خریداری کے بعد ان کے ذبیحے ک لیے عارضی روزگار پیدا ہوتا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ قصائی، مددگار اور صفائی کے شعبے میں کام کرتے ہیں جس سے قلیل مدتی روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں۔
قربانی کے جانوروں سے حاصل شدہ فضلہ بھی مختلف طریقوں سے استعمال میں لایا جاتا ہے۔
مزید پڑھیے: عیدالاضحیٰ پر مسافروں سے زیادہ کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف مہم کا آغاز
سب سے اہم پہلو چمڑے کی صنعت کا ہے جسے عید کے موقعے پر سب سے زیادہ خام مال دستیاب ہوتا ہے۔ پاکستان کی چمڑے کی صنعت ایک وقت بحران کا شکار رہی، خاص طور پر جب چینی لیدر کی درآمدات نے مقامی مارکیٹ کو متاثر کیا۔ تاہم حالیہ برسوں میں یہ صنعت بتدریج بحالی کی جانب گامزن ہے اور دنیا بھر میں اصلی چمڑے کی مانگ میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کی چمڑے کی صنعت نہ صرف ملکی ضروریات پوری کرتی ہے بلکہ ایکسپورٹ کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ ہر سال تقریباً 5 ارب روپے مالیت کی کھالیں جمع کی جاتی ہیں جن میں سے ایک بڑی مقدار برآمد کی جاتی ہے جبکہ باقی کھالیں مقامی صنعتوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ ان کھالوں سے جوتے، بیگ، جیکٹس، گاڑیوں کے سیٹ کورز اور دیگر مصنوعات تیار کی جاتی ہیں جو ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق ملکی مجموعی قومی پیداوار میں زراعت کا حصہ 18.
قائداعظم یونیورسٹی کے اسکول آف فنانس اینڈ اکنامکس کے پروفیسر، ڈاکٹر انور شاہ کے مطابق عیدِ قرباں کے موقع پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ امریکا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں مقیم پاکستانی قربانی کے لیے رقم پاکستان بھیجتے ہیں تاکہ اس کا فائدہ یہاں کے مستحق اور پسماندہ طبقوں کو پہنچ سکے۔
وہ یہ رقم نہ صرف اپنے اہلِ خانہ اور رشتہ داروں کو بھیجتے ہیں بلکہ مختلف فلاحی اداروں کو بھی دیتے ہیں جو ضرورت مندوں تک قربانی کا گوشت پہنچانے کی ذمے داری ادا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر انور شاہ کا مزید کہنا تھا کہ عموماً ہر خاندان میں ایک فرد قربانی کرتا ہے۔ اگر ہم ملک کی مجموعی آبادی کو اوسط خاندانی سائز پر تقسیم کریں تو ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تقریباً کتنے افراد قربانی کرتے ہیں۔ اس بنیاد پر ہم معیشت پر قربانی کے مثبت اثرات اور مجموعی فائدے کا بھی تخمینہ لگا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: عیدالاضحیٰ پر ریلیز ہونے والی ماہرہ خان اور ہمایوں سعید کی فلم ‘لَو گورو’ کا ٹریلر جاری
انہوں نے بتایا کہ سنہ 2024 کے رجحانات کو دیکھیں تو سال 2025 میں بھی قربانی کے جانوروں کی تعداد میں اضافہ یا کم از کم گزشتہ سال کے برابر ہی رہنے کا امکان ہے۔ سنہ 2024 میں تقریباً 6.8 ملین جانور قربان کیے گئے تھے اور چونکہ معاشی حالات مستحکم ہیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ یہ تعداد 2025 میں بھی اضافہ ممکن ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سالوں کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عید الاضحیٰ پر 200 سے 300 ارب روپے تک کی رقم ہر سال شہری علاقوں سے دیہی علاقوں کی طرف منتقل ہوتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عید قرباں عیدالاضحیٰ عیدالاضحیٰ اور کاروبار عیدالضحیٰ اور ملکی معیشت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عیدالاضحی عیدالاضحی اور کاروبار عیدالضحی اور ملکی معیشت قربانی کے کی معیشت ارب روپے جاتی ہیں ہوتا ہے چمڑے کی کی جاتی میں بھی کی جانب کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔