اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اور سینیٹ خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عرفان صدیقی نے نجی ٹی وی چینل   کے پروگرام میں پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی ٹھوس منڈیٹ اور یقین دہانیوں کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔  سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ عمران خان کے جیل میں ہونے کے باوجود ’’نہ تو سیاسی عمل رکا ہے اور نہ ہی معیشت کا پہیہ جام ہوا ہے۔‘‘ بانی پی ٹی آئی کے ٹیسٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ عدالتی کارروائی کا حصہ ہے، جس کی پاسداری ہر صورت میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے عمران خان کی موجودہ قانونی پیچیدگیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’عمران خان کو اپنی رہائی کے لیے عدالتی عمل سے گزرنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے پی ٹی آئی پر ماضی میں پاکستان کو ’’دیوالیہ‘‘ کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کو خطوط لکھ کر ملک کو معاشی بحران میں دھکیلنے کی کوشش کی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’یہ پی ٹی آئی کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔‘‘ سینیٹر عرفان صدیقی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دفاعی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے نہ صرف بھارت کے ساتھ جنگ جیتی ہے بلکہ سفارت کاری کے میدان میں بھی بہترین مہارت کا ثبوت دیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اسے فوجی بجٹ نہیں بلکہ ملکی سلامتی اور قومی دفاع کا بجٹ کہنا چاہیے جس میں اضافہ ناگزیر ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف سے متعلق سوال کے جواب میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ نواز شریف پوری طرح حکومت میں موجود ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے خود کہا کہ وہ کوئی بڑا فیصلہ نواز شریف کی مشاورت کے بغیر نہیں لیتے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں نواز شریف کی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے وہ پوری طرح متحرک ہوتے ہیں، ایک سیاسی مدبر کے طور پر نواز شریف اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔نواز شریف جیسے بڑے قد کے لیڈر کیلئے ضروری نہیں کہ وہ روز میڈیا پر آ کر اپنا نظریہ پیش کریں۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی نے پی ٹی ا ئی نواز شریف نے کہا کہ ہوئے کہا انہوں نے

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار