یوم تکبیردفاع وطن کیلئے 24کروڑ عوام کے جذبےاور عزم کی درخشاں علامت ،عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار )سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی لیڈر اور خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ سینیٹر عرفان صدیقی نے ایٹمی دھماکوں کے 27 سال پورے ہونے پر (یوم تکبیر)اپنے پیغام میں کہاہے کہ یوم تکبیر صرف ایک دن کا نام نہیں ہے میرا خیال یہ ہے کہ یہ 24کروڑ عوام کا جذبہ ، عزم ، ارادہ اورقومی دفاع کی ایک ایسی علامت ہے جو درخشاں ہےاور آنے والی نسلوں کوہی نہیں بلکہ ان کی نسلوں کو بھی دفاع وطن کا عزم عطا کرتا رہے گا ۔ انہوں نے کہاکہ اس دن ہم نے برملااپنی ایٹمی طاقت کا اظہار کیا یہ اس لئے بھی ضروری ہوگیاتھاکیونکہ ہمارے قریب ترین ہمسایہ ملک نے اپنی ایٹمی صلاحیت کا اظہار کر دیا تھا اور اس کے فوراً بعد اس طرح کا تاثر وہاں سے آنے لگا تھا کہ جیسے پاکستان کو ترنوالہ سمجھ لیا جائے گا لیکن آج کے دن 28 مئی کواس وقت کے وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں ایک تاریخ ساز فیصلہ کیا گیا۔دنیا جانتی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف پر ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے لئے کتنا دبائو تھا ،کس طرح کی ترغیبات دی گئیں، کس طرح کا ماحول ہوا ، جب بھارت کے دھماکے ہوئے تواگل ہی دن وزیراعظم نوازشریف ایوان صدر میں آئے ،وہاں میں موجود تھا،انہوں نے اس وقت کے صدر رفیق تارڑ سے ملاقات کی جس میں طے ہو گیا تھا کہ اب یہ دھماکے کرنے ہیں ،عرفان صدیقی نے کہاکہ لوگوں کا کہنا کہ یہ کہنا کہ فلاں پریشر پڑا ، فلاں کا دبائو تھا ورنہ دھماکے نہیں کرنے تھے ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ دھماکوں کا فیصلہ اسی ہو گیا تھا جس دن بھارت نے اپنے ایٹمی دھماکے کئے تھے ۔انہوں نے کہاکہ مئی کے مہینے میں ہم نے ’’بنیان مرصوص ‘‘میں تاریخی فتح حاصل کر کے دراصل 28مئی جو ہمارا تفاخر تھا اس میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے ۔ مجھے یقین ہے یہ دن اسی جذبے سے منایا جاتا رہے گا ۔انہوں نے کہاکہ ہماری مسلح افواج کا جذبہ اور شہادت اور غازی بننے کی آرزو ہے اس کا کوئی متبادل نہیں ہے، دنیا کے پاس ایسےکوئی ہتھیار نہیں جو ہماری مسلح افواج کے اس جذبے کا سامنا کر سکیں۔ قوم کو آج یوم تکبیر کے ساتھ ’’بنیان مرصوص‘‘ کی کامیابی کی بھی مبارکباد دیتا ہوں ۔اللہ تعالیٰ دفاع وطن کایہ عزم اور جذبہ قائم دائم رکھے ، ہم اسی جوش و جذبہ کے ساتھ اپنی پاک سرزمین کے دفاع کے لیے دعا گو اورکوشاں رہیں گے ۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔