پاور ڈویژن کا نیپرا کی طرف سے ’کے الیکٹرک‘ کیلئے جاری فیصلے پر شدید خدشات کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
پاور ڈویژن نے نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کے 7 سالہ ملٹی ائیر ٹیرف کے بارے میں کے الیکٹرک کے لیے جاری فیصلے پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔
وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری نے کہا کہ ایسے فیصلے آئندہ ملٹی ائیر ٹیرف دورانیہ میں سرمایہ کاری کو متاثر کر سکتے، فیصلے کے وفاق کی سبسڈیز یکساں ٹیرف نظام میں طویل مدتی اثرات آئیں گے۔
اویس لغاری نے کہا کہ پاور ڈویژن نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کیلئے جاری ملٹی ائیر ٹیرف کا جائزہ لے گا، پرانے جنریشن ٹیرف بارے فیصلہ پر نظرثانی نیپرا کی توجہ کی منتظر ہے، اس نظر ثانی فیصلے میں تاخیر سے پاور سیکٹر پر سنگین مالیاتی اثرات آرہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ایسے معاملات پر توجہ نہ دی گئی تو ریگولیٹری نظام متاثر ہوگا، ایسے اقدامات بجلی کی تقسیم کے شعبے میں نجی شعبے کو راغب کرنے کی کوششوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔
گزشتہ دوں نیپرا نے کےالیکٹرک کی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن ٹیرف کی درخواستوں پر فسکل ایئر2023–24 سے لے کر 2029–30 تک کے لیے فیصلے جاری کردیے تھے۔
نیپرا نے ٹرانسمیشن کے لیے 12 فیصد اور ڈسٹری بیوشن کے لیے 14فیصد ریٹرن آن ایکوئٹی کی منظوری دی ہے، جبکہ کمپنی کی درخواست بالترتیب 15فیصد اور 16.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاور ڈویژن کے الیکٹرک نیپرا کی کے لیے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔