کیا اب استاد دیر سے آنے پر طلبہ کو ڈانٹ بھی نہیں سکتا؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
کراچی کے علاقے جمشید کوارٹر میں واقع نجی اسکول میں خاتون ٹیچر پر تشدد کا واقعہ سامنے آیا جس کا مقدمہ جمشید کوارٹر تھانے میں متاثرہ معلمہ کی مدعیت میں درج کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق نجی اسکول میں خاتون ٹیچر پر تشدد کی ویڈیو سامنے آئی ہے۔ ویڈیو میں ملزمان کو خاتون ٹیچر پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں شرارت کیوں کی، کوئٹہ کے اسکول پرنسپل کا 10 سالہ طالبعلم پر پلاسٹک پائپ سے بیہمانہ تشدد
پولیس نے بتایا کہ ایس ایس پی ایسٹ ڈاکٹر فرخ رضا نے ٹیچر پر تشدد کے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔
پولیس کے مطابق خاتون معلمہ پر ایک طالبہ کے والدین کی جانب سے تشدد کیا گیا، اور ان کے ساتھ ایک پولیس اہلکار بھی شامل تھا، جس کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
درج مقدمہ کے مطابق 16 مئی کو معلمہ نے اسکول میں دیر سے آنے پر ایک طالبہ کو ڈانٹا، اور سزا کے طور پر کچھ دیر کے لیے کھڑا کردیا۔
مقدمے کے مطابق 2 روز قبل طالبہ کے والدین اور ماموں اسکول آئے، طالبہ کے ماموں نے کہاکہ میں ایس ایچ او کلاکوٹ ہوں۔
’پرنسپل نے کہاکہ ان لوگوں سے معافی مانگوں، جب میں پرنسپل آفس پہنچی تو طالبہ، اس کے والدین اور ماموں نے مجھ پر تشدد کیا، جبکہ بچانے کے لیے آنے والی ایک خاتون ٹیچر پر بھی تشدد کیا گیا۔‘
محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق اسکول انتظامیہ، والدین اور اساتذہ میں سے کسی نے شکایت نہیں کی، شکایت ملنے کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائےگی۔
پولیس حکام کے مطابق پولیس نے واقعے میں ملوث طالبہ کے والد کو گرفتارکرلیا، جبکہ مقدمہ میں نامزد پولیس اہلکار ہیڈ کانسٹیبل حفیظ تاحال مفرور ہے۔
یہ بھی پڑھیں لاہور: طالبعلم پر تشدد میں ملوث اسکول پرنسپل سمیت 3 نامزد ملزمان گرفتار
پولیس نے بتایا کہ ہیڈ کانسٹیبل حفیظ فارنزک میں تعینات اور زیرتربیت ہے، پولیس اہلکار کےخلاف محکمہ جاتی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے اور گرفتاری کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسکول طالبہ پولیس اہلکار کراچی معلمہ تشدد مقدمہ درج وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول طالبہ پولیس اہلکار کراچی وی نیوز خاتون ٹیچر پر پولیس اہلکار ٹیچر پر تشدد کے مطابق طالبہ کے تشدد کی
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک