Express News:
2026-06-03@06:08:04 GMT

بلوچستان،پراکسی جنگ اور بھارت

اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT

حالیہ پاک بھارت کشیدگی اور بھارت کی مختلف محاذ پر پسپائی کے بعد یہ امر یقینی تھا کہ پاکستان میں آنے والے عرصے میں پراکسی جنگ جیسے امور کو زیادہ بالادستی حاصل ہوگی۔ بھارت پراکسی جنگ کو پاکستان کے خلاف بطور ہتھیار زیادہ شدت کے ساتھ استعمال کرے گا تاکہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم کر سکے۔

بلوچستان اور صوبہ خیبر پختون خواہ اس کا خصوصی ٹارگٹ ہوں گے۔ بلوچستان میں بی ایل اے اور خیبر پختونخوا میں کالعدم تحریک طالبان یعنی ٹی ٹی پی کی افغانستان کے ذریعے سہولت کاری اور معاونت کے ساتھ وہ اپنی پہلے سے جاری جنگ میں مزید شدت پیدا کرے گا۔

خضدار میں اسکول بس سانحہ ظاہر کرتا ہے دہشت گردی کا یہ کھیل آسانی سے نہیں رکے گا۔ آئی ایس پی آر کے بقول اس دہشت گردی کی منصوبہ بندی بھارت میں کی گئی اور وہ یہ حملہ اپنی پراکسی تنظیموں سے کروایا۔ خیبر پختون خوا میںہو رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ضرور ہوئی ہے مگر جنگ کے خطرات بدستور موجود ہیں، دہشت گردی کے واقعات میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

معصوم نہتے شہریوں اور بالخصوص معصوم بچوں کو نشانہ بنانا گھناؤنا فعل ہی ہوسکتا ہے اور اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہوگی۔بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے حملوں سے کئی بے گناہ شہری اپنی جانوں سے گئے ہیں۔بالخصوص غیر بلوچیوں کو ٹارگٹ کرکے قتل کرنا زیادہ سنجیدہ اور تشویش کے پہلو کی عکاسی کرتا ہے ۔

بلوچستان کے وزیر اعلی سرفراز بگتی کے بقول ہمارے پاس یہ انٹیلی جنس رپورٹس موجود تھیں کہ بھارت کی پراکسی جنگ بلوچستان میں ہوسکتی ہے۔پاکستان کافی عرصہ سے کہہ رہا ہے کہ اس کے پاس پراکسی جنگ کے تناظر میں بلوچستان پر بھارت کے خلاف کافی مضبوط شواہد موجود ہیں ۔ اب جب کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو بھارت پر نہ صرف نفسیاتی برتری حاصل ہے بلکہ ہم سفارتی محاذ پر بھی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں ۔

اس لیے جعفر آباد ایکسپریس کا واقعہ ہو یا خضدار میں ہونے والی دہشت گردی یا مسلسل کئی عرصے سے بلوچستان کے علیحدگی پسند افراد یا بی ایل اے کی دہشت گردی پر مبنی کارروائیوں کے جو بھی شواہد یا حقایق ثبوت کی صورت میں موجود ہیں اسے ہمیں عالمی دنیا میں موجود سفارتی محاذ پر پیش کرکے بھارت کو بڑے دباؤ میں لانا ہوگا۔کیونکہ بھارت نے پہلگام واقعہ کو بنیاد بنا کر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان پر الزام لگایا ہمیں ان کی حکمت عملی سے گریز کرکے ثبوت کے ساتھ بھارت کے خلاف عالمی دنیا میں جانا ہوگا تاکہ ہم بہتر طور پر اپنا مقدمہ عالمی دنیا میں لڑسکیں ۔

یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ بلوچستان میں حالات سنگین ہیں ۔ اس بحران کا حقیقی ادراک کرتے ہوئے ہمیں خود بھی مسائل کے حل کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔اس مسئلہ کے حل کے لیے ہمیں لانگ ٹرم ،مڈ ٹرم اور شارٹ ٹرم کی بنیادوں پر قومی اتفاق رائے کے ساتھ موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوں گی۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم داخلی سطح کے معاملات میں خلیج پیدا نہ کریں اور دشمن کو موقع نہ دیں کہ وہ ہماری داخلی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا سکے۔ بلوچستان میں موجود سیاسی لوگوں کے ساتھ معاملات طے کرنے ہوں گے۔

 بلوچستان کا مسئلہ سیاسی تنہائی میں حل نہیں ہوگا۔بالخصوص ایسے موقع پر جب یہ خطرات موجود ہیں کہ بھارت بلوچستان میں اپنی مداخلت یا پراکسی جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے تو ہمیں زیادہ خبردار رہنا ہوگا اور بلوچستان کی نگرانی اور گورننس سے جڑے تمام معاملات پر موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے داخلی بیانیہ کو بھی درست کرنا ہوگا۔بھارت سے آنے والے دنوں میں ہمارے خطرات کم نہیں بلکہ اور زیادہ بڑھنے کے امکانات ہیں ۔فغانستان کے معاملے میں بھی بھارت ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے اور ٹی ٹی پی کی سرپرستی پاکستان کی مخالفت میں اس کی پالیسی کا حصہ ہے۔

افغانستان سے جو ہمارے معاملات خراب ہیں یا جو کردار پاکستان کی مخالفت میں ٹی ٹی پی ادا کررہی ہے وہ بھارت کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔اس لیے بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں بھارت کی پراکسی کو کمزور کرنے کے لیے ہمیں افغانستان سے اپنے تعلقات میں بہتری بھی لانا ہوگی اور ٹی ٹی پی کا بھی علاج تلاش کرنا ہوگا۔

ہمیں سفارتی محاذ پر بھارت کے کردار کو محض بلوچستان تک محدود رکھ کر دنیا کے سامنے پیش نہیں کرنا بلکہ افغانستان اور ٹی ٹی پی کے معاملے میں بھی بھارت کی تصویر اور اس کے دوہرے معیارات کو عالمی دنیا میں پوری شدت ،ٹھوس دلیل ،منطق اور شواہد کے ساتھ پیش کرنا ہوگا۔مسئلہ کا حل جذباتیت پر مبنی پالیسی یا محض ردعمل پر مبنی نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمارے عمل اور اقدام سمیت حکمت عملیوں میں بھارت کے مقابلے میں زیادہ وسعت اور گہرائی ہونی چاہیے۔پاکستان میں موجود عالمی دنیا کے سفیروں کو بریف کرنا ہوگا کہ موجودہ حالات میں بھارت کا ایجنڈا محض پاکستان مخالفت کی بنیاد پر ہی نہیں بلکہ خطہ سمیت عالمی دنیا کے لیے بھی خطرناک رجحانات کی نشاندہی کرتا ہے۔

پاکستان جو سیاسی اور معاشی بنیادوں پر آگے بڑھنا چاہتا ہے یا خود کو اس علاقائی سیاست میں مستحکم کرنا چاہتا ہے تو اسے سیاسی و سفارتی بنیادوں پر پاکستان کی داخلی ،علاقائی اور عالمی سطح پر ایک بڑی سیاسی جنگ لڑنا ہوگی اور یہ جنگ اسی بنیاد پر لڑی جاسکتی ہے جب ہم خود بھی اپنی داخلی سطح پر مضبوط پوزیشن رکھ سکیں گے۔سیاسی عدم استحکام ہمارا بڑا چیلنج ہے اور اس کو نظرانداز کرکے یا غیر اہم سمجھ کر ہماری آگے بڑھنے کی حکمت عملی ہمیں کوئی موثر نتائج نہیں دے سکے گی۔

اس لیے ہمیںان حالات میں بطور ریاست اور حکومت خود کو بھی تیار کرنا ہے اور قوم کو بھی تیار کرنا ہے کہ کیسے ہمیں ان چیلنجز سے مقابلہ کرنا ہے۔اس کے لیے قومی سطح پر ایک بڑے اتفاق رائے کا ماحول درکار ہے اور اس میں سب فریقین کواپنے اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات سے باہر نکل کر ریاست یا ملک کے مفادات کو اہمیت دینا ہوگی ۔اسی حکمت عملی کے تحت ہم بھارت کی پراکسی جنگ میں اس کو پسپائی پر مجبور کرسکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عالمی دنیا میں بلوچستان میں پراکسی جنگ موجود ہیں حکمت عملی کرنا ہوگا بھارت کے بھارت کی ٹی ٹی پی کے ساتھ کے لیے اور اس اس لیے ہے اور

پڑھیں:

ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟

ہند رجب فاؤنڈیشن نے بھارتی پولیس، وزارت داخلہ اور بیورو آف امیگریشن سے ہماچل پردیش میں تعطیلات گزارنے والے اسرائیلی فوج کے ریزروسٹ اہلکار ایٹن گل بوا کی فوری گرفتاری کا

مطالبہ کیا ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق مذکورہ اسرائیلی اہلکار پر غزہ میں ’انتقامی کارروائیوں کے طور پر پورے رہائشی بلاکس کی منظم تباہی‘ کا الزام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: فلسطینی بچی پر مبنی آسکر نامزد فلم  ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی عائد

فاؤنڈیشن کے مطابق گل بوا، جو اسرائیلی فوج کی 271ویں کامبیٹ انجینئرنگ بٹالین میں ریزروسٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے، نے شہری عمارتوں کی تباہی کو خود دستاویزی شکل دی۔

اس نے ایسی ویڈیوز بھی بنائیں جن میں وہ خان یونس اور رفح میں شہری گھروں کی مسماری کے احکامات دیتے، ان پر عمل درآمد کرتے اور اس عمل کا جشن مناتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔

The @hindrajabfoundation filed an urgent complaint in ???????? #India, demanding the immediate arrest of Eitan Gilboa, Israeli national and reservist in the 271st Combat Engineering Battalion. Gilboa is currently vacationing in Old Manali and Gondla Village, Himachal Pradesh.
Full… pic.twitter.com/6nSTt3uk25

— The Hind Rajab Foundation (@HindRFoundation) June 2, 2026

فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ گل بوا کے خلاف متعدد ایسے واقعات کے شواہد موجود ہیں جن میں اس نے شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں حصہ لیا۔

’مارچ 30 موومنٹ‘ کے ذیلی ادارے ہند رجب فاؤنڈیشن نے کہا کہ گل بوا کے مبینہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔

فاؤنڈیشن کے مطابق بھارت، جو اس کنونشن کا فریق ہے، قانونی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کی تلاش کرے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے،

خواہ ان کی شہریت کچھ بھی ہو۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی جنرل کو اعزاز دیے جانے کے بعد معروف ہدایتکارہ کا ایوارڈ لینے سے انکار

فاؤنڈیشن نے مزید کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 51(سی) کے تحت بھی ریاست بین الاقوامی قانون کے احترام کو فروغ دینے کی پابند ہے، لہٰذا نئی دہلی پر اس معاملے میں کارروائی کی ذمہ داری

عائد ہوتی ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق اس کے جنرل ڈائریکٹر دیاب ابو جحجہ نے کہا کہ گل بوا کوئی سیاح نہیں بلکہ ایک جنگی مجرم ہے جو اپنے جرائم کے نتائج سے بچتے ہوئے اس وقت بھارت کی مہمان

نوازی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔

The Hind Rajab Foundation (HRF), a Belgium-based organisation pursuing legal action against Israeli military personnel across multiple countries, has filed a complaint with Indian authorities seeking the arrest of an Israeli reservist currently travelling in Himachal Pradesh over…

— The Siasat Daily (@TheSiasatDaily) June 2, 2026

’اس نے خود عوامی طور پر ایسی ویڈیوز اور مواد شائع کیا ہے جن میں وہ غزہ کے پورے محلوں کو راکھ اور ملبے میں تبدیل کرتا دکھائی دیتا ہے، اور ان کارروائیوں کو انتقامی جذبے کے تحت

ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام منسوب کرتا ہے۔‘

مزید پڑھیں: بیلجیئم نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ آئی سی سی کو بھجوا دیا

دیاب ابو جحجہ نے بھارتی حکام سے فوری کارروائی اور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنی سرزمین ان افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دینی چاہیے جو شہری جانوں کی

تباہی پر فخر کرتے ہیں۔

فاؤنڈیشن نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں جوابدہی کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور اس کا مؤقف ہے کہ مشتبہ شخص اس وقت بھارت میں موجود ہے، اس لیے کارروائی

کی ذمہ داری بھی بھارت پر عائد ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی فوج اہلکار بھارت بیورو آف امیگریشن پولیس غزہ فاؤنڈیشن نئی دہلی ہماچل پردیش ہند رجب وزارت داخلہ

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی