قربانی کی کھالیں کالعدم تنظیموں کو ہرگز نہ دیں، محکمہ داخلہ پنجاب کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
محکمہ داخلہ نے کالعدم تنظیموں اور انکے ذیلی اداروں کی فہرست جاری کرکے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ان کالعدم تنظیموں اور ان کے ذیلی اداروں کو قربانی کی کھالیں ہرگز نہ دیں۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے کہا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997کے تحت کالعدم تنظیموں کی ہر قسم کی معاونت جرم ہے، دہشتگردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث کالعدم تنظیموں کی امداد کرنے والے قانون کے شکنجے میں آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: قربانی کی کھالیں: سندھ میں ضابطہ اخلاق جاری
محکمے داخلہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قربانی کی کھالیں صرف پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹرڈ اداروں کو دیں، تمام رجسٹرڈ اداروں کی تصدیق ان کے سرٹیفکیٹ پر موجود کیو آر کوڈ سے کی جاسکتی ہے۔
اعلامیے کے مطابق متعلقہ ڈپٹی کمشنرز مدارس اور خیراتی تنظیموں کو قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کا اجازت نامہ دیتے ہیں، شہری یقینی بنائیں کہ جسے قربانی کی کھال دے رہے ہیں ان کے پاس چیریٹی کمیشن یا ڈپٹی کمشنر کا سرٹیفیکیٹ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیے: قربانی کی کھالیں کیسے کراچی میں گینگ وار کا سبب بنتی رہی ہیں؟
محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ شہری یقینی بنائیں کہ ان کی امداد دہشتگردوں کی بجائے صحیح حقدار تک پہنچ رہی ہے، رجسٹرڈ اداروں کی تفصیلات محکمہ داخلہ پنجاب کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں جبکہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کی اطلاع 15، ٹال فری نمبر 080011111 یا ہیلپ لائن نمبر 04299214871 اور 04299214872 پر دیں۔
اعلامیے کے مطابق پنجاب چیریٹی کمیشن اور نیکٹا کی ویب سائٹ پر تمام کالعدم تنظیموں کی تفصیلات دی گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خیرات قربانی کی کھالیں کالعدم تنظیمیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیرات قربانی کی کھالیں کالعدم تنظیمیں کالعدم تنظیموں کی قربانی کی کھالیں محکمہ داخلہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں