محکمہ داخلہ نے کالعدم تنظیموں اور انکے ذیلی اداروں کی فہرست جاری کرکے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ان کالعدم تنظیموں اور ان کے ذیلی اداروں کو قربانی کی کھالیں ہرگز نہ دیں۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے کہا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997کے تحت کالعدم تنظیموں کی ہر قسم کی معاونت جرم ہے، دہشتگردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث کالعدم تنظیموں کی امداد کرنے والے قانون کے شکنجے میں آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: قربانی کی کھالیں: سندھ میں ضابطہ اخلاق جاری

محکمے داخلہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قربانی کی کھالیں صرف پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹرڈ اداروں کو دیں، تمام رجسٹرڈ اداروں کی تصدیق ان کے سرٹیفکیٹ پر موجود کیو آر کوڈ سے کی جاسکتی ہے۔

اعلامیے کے مطابق متعلقہ ڈپٹی کمشنرز مدارس اور خیراتی تنظیموں کو قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کا اجازت نامہ دیتے ہیں، شہری یقینی بنائیں کہ جسے قربانی کی کھال دے رہے ہیں ان کے پاس چیریٹی کمیشن یا ڈپٹی کمشنر کا سرٹیفیکیٹ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیے: قربانی کی کھالیں کیسے کراچی میں گینگ وار کا سبب بنتی رہی ہیں؟

محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ شہری یقینی بنائیں کہ ان کی امداد دہشتگردوں کی بجائے صحیح حقدار تک پہنچ رہی ہے، رجسٹرڈ اداروں کی تفصیلات محکمہ داخلہ پنجاب کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں جبکہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کی اطلاع 15، ٹال فری نمبر 080011111 یا ہیلپ لائن نمبر 04299214871 اور 04299214872 پر دیں۔

اعلامیے کے مطابق پنجاب چیریٹی کمیشن اور نیکٹا کی ویب سائٹ پر تمام کالعدم تنظیموں کی تفصیلات دی گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خیرات قربانی کی کھالیں کالعدم تنظیمیں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خیرات قربانی کی کھالیں کالعدم تنظیمیں کالعدم تنظیموں کی قربانی کی کھالیں محکمہ داخلہ

پڑھیں:

علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 

پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت