پاکستان کے تمام انٹرنیشنل کرکٹرز ایک ڈومیسٹک ٹورنامنٹ لازمی کھیلیں گے:محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی زیرِ صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے تمام انٹرنیشنل کرکٹرز ایک ڈومیسٹک ٹورنامنٹ لازمی کھیلیں گے۔ہیڈ کوچ مائیک ہیسن، چیف آپریٹنگ افسر سمیر احمد، مینجر نوید اکرم چیمہ، ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ، ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس سینٹرز عاقب جاوید اور کپتان سلمان آغا نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹرز کے ساتھ کھیلنے سے ڈومیسٹک پلیئرز کی گرومنگ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کا مضبوط ڈھانچہ ہی بہترین کرکٹرز کو آگے لا سکتا ہے، ڈومیسٹک کرکٹرز سے ہی انٹرنیشنل کرکٹرز کا اچھا بیک اپ ملے گا۔ اجلاس میں سینٹرل کنٹریکٹ پر کام شروع کرنے، پاکستانی ٹیم کی جنوبی افریقہ، سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز اور دورہ ویسٹ انڈیز اور بنگلادیش کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ نے آئندہ کرکٹ سیریز کے بارے بریفنگ دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انٹرنیشنل کرکٹرز انٹرنیشنل کرکٹ
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلے فیفا فٹبال ورلڈکپ(FIFA World Cup) 2026 کا آغاز 12 جون سے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں ہوگا۔
یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ورلڈکپ میں 48 ٹیمیں حصہ لیں گی، جس کے باعث ٹورنامنٹ پہلے سے زیادہ طویل، دلچسپ اور غیر متوقع نتائج کا حامل ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق اس بار 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔ مجموعی طور پر اس ٹورنامنٹ میں 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو اسے فیفا ورلڈکپ کی تاریخ کا سب سے بڑا ایڈیشن بنا دیتے ہیں۔
نئے فارمیٹ کے تحت ہر گروپ سے پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیمیں براہ راست ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچیں گی۔ اس بار پہلی مرتبہ راؤنڈ آف 32 کا مرحلہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے بعد مقابلہ مزید سخت ہوتا جائے گا۔
ٹورنامنٹ میں دنیا کی بڑی فٹبال ٹیمیں ایک بار پھر ٹائٹل کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی، تاہم ماہرین کے مطابق 48 ٹیموں کی شمولیت کے باعث کسی بھی واضح فیورٹ کا تعین کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
اسی تناظر میں اوپٹا سپر کمپیوٹر نے جدید ڈیٹا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل کے ذریعے ورلڈکپ کی پیشگوئی کی ہے۔ یہ ماڈل ہزاروں بار ٹورنامنٹ کے ممکنہ نتائج کو ڈیجیٹل طور پر سمولیٹ کر کے نتائج اخذ کرتا ہے اور ہر ٹیم کے جیتنے، فائنل تک پہنچنے اور ناک آؤٹ مرحلے میں کارکردگی کے امکانات کا تجزیہ پیش کرتا ہے۔
مزیدپڑھیں:عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
سپر کمپیوٹر کے مطابق اس بار فیورٹ ٹیموں میں اسپین سب سے آگے ہے، جس کے ورلڈکپ جیتنے کے امکانات 16.1 فیصد بتائے گئے ہیں۔ اس کے بعد فرانس کو 13 فیصد، انگلینڈ کو 11.2 فیصد اور ارجنٹینا کو 10.4 فیصد کے ساتھ ممکنہ ٹاپ امیدواروں میں شامل کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق یہ چاروں ٹیمیں وہ ہیں جن کے امکانات دیگر ٹیموں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ تاہم ماڈل یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اسپین کے لیے ٹائٹل جیتنے کا راستہ آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان بھی 52 فیصد سے زیادہ بتایا گیا ہے۔
تجزیاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسپین کے کوارٹر فائنل تک پہنچنے کی صورت میں سیمی فائنل تک رسائی کا امکان تقریباً 39 فیصد اور فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہے، جو اسے ایک مضبوط مگر غیر یقینی پوزیشن میں رکھتا ہے۔
48 ٹیموں کی شمولیت نے ورلڈکپ کو مزید غیر متوقع بنا دیا ہے، جہاں کسی بھی بڑے اپ سیٹ کا امکان پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے، اور یہی اس ٹورنامنٹ کو خاص اور دلچسپ بناتا ہے۔