ایلون مسک نے بھارت کو بڑا جھٹکا دے دیا، خواہشوں پر پانی پھیر دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
بھارت کے وفاقی وزیر برائے ہیوی انڈسٹریز ایچ ڈی کمارسوامی نے اعلان کیا ہے کہ امریکی کمپنی ٹیسلا بھارت میں الیکٹرک گاڑیاں بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ انہوں نے یہ بات بھارت میں الیکٹرک گاڑیاں درآمد کرنے والے اداروں کے لیے ایک نئی ترغیبی سکیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہی، جسے ابتدا میں ٹیسلا کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھا جا رہا تھا۔
کمارسوامی کے مطابق، ٹیسلا نے بھارت میں صرف دو شورومز کھولنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جبکہ گاڑیاں بنانے کی کوئی پیش رفت یا منصوبہ سامنے نہیں آیا۔ دی وائر کے مطابق، اس سکیم کے تحت وہ کمپنیاں جو بھارت میں کارخانہ لگانے کے لیے 4,150 کروڑ روپے (تقریباً 500 ملین ڈالر) کی سرمایہ کاری کریں گی، ان کے لیے مہنگی درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر ڈیوٹی کم کر کے 15 فیصد کر دی جائے گی۔
کئی بین الاقوامی کمپنیاں جیسے مرسڈیز بینز، ووکس ویگن، سکوڈا، ہنڈائی اور کیا اس سکیم میں دلچسپی ظاہر کر چکی ہیں، جبکہ ٹیسلا اور ویتنام کی کمپنی ون فاسٹ جیسی الیکٹرک گاڑی بنانے والی کمپنیوں سے بھی امید تھی کہ وہ شامل ہوں گی، لیکن اب وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ ٹیسلا سے کسی دلچسپی کی توقع نہیں ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ٹیسلا نے فروری 2025 تک دہلی اور ممبئی میں شورومز کے لیے جگہ منتخب کر لی ہے تاکہ وہ وہاں اپنی درآمد شدہ گاڑیاں فروخت کر سکے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال ایلون مسک کا وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات اور بھارت میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان متوقع تھا، تاہم انہوں نے مصروفیت کے باعث اپنا دورہ مؤخر کر دیا اور اس کے فوراً بعد چین کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اپنی خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کو منظوری دلوانے میں پیش رفت کی۔
بھارت میں الیکٹرک گاڑیوں پر موجودہ درآمدی ڈیوٹی 70 سے 100 فیصد کے درمیان ہے، اور نئی سکیم کے تحت اسے محدود مدت کے لیے 15 فیصد تک لایا جائے گا۔ اس کے عوض، کمپنیوں کو تین سال میں کارخانہ مکمل طور پر فعال بنانا ہوگا اور مقامی پرزہ جات کی شمولیت (لوکل ویلیو ایڈیشن) پہلے تین سال میں 25 فیصد اور پانچ سال میں 50 فیصد تک لانی ہوگی۔
درخواست دینے کا وقت چار ماہ یا اس سے زیادہ ہوگا، اور وزارت کے مطابق یہ عمل رواں ماہ ہی شروع ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بھارت میں کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز