واشنگٹن(نیوز ڈیسک) پاکستان کے اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق وزیر داخلہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں واشنگٹن میں مصروف ترین دن گزارا، جہاں امریکی کانگریس اور سینیٹ کے اراکین سے اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ وفد نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی، بھارتی اشتعال انگیزی، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف سے امریکی قیادت کو آگاہ کیا۔

وفد نے پاکستان کاکس کے شریک چیئرمینز جیک برگ مین اور ٹام سوازی سمیت سینیٹر ایلیسا سلوٹکن، سینیٹر جم بینکس، سینیٹر وان ہولن، سینیٹر کوری بوکر، اور دیگر ارکان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے گفتگو میں کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف ڈائیلاگ، سفارتکاری اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ممکن ہے۔

انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیے جانے کے عمل کا نوٹس لیا جائے۔

پاکستانی وفد نے انسداد دہشت گردی، علاقائی استحکام، اور پاک امریکہ تجارتی تعلقات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ بلاول بھٹو نے امریکہ کو پاکستان کا اہم تجارتی و اقتصادی شراکت دار قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر مضبوط روابط کے قیام کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

امریکی کانگریس اراکین نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی استحکام، علاقائی امن، اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے حمایت کے عزم کا اعادہ کیا اور پاکستانی عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ وفد نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے امریکی دلچسپی اور کوششوں کو سراہتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلے کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستان کے وفد نے

پڑھیں:

پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔

اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار