کولمبیا میں 6.3 شدت کا زلزلہ، عمارتوں کو نقصان پہنچا
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
جنوبی امریکی ملک کولمبیا میں 6 اعشاریہ 3 شدت کے زلزلے سے درجنوں گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے اور سڑکوں پر دراڑیں پڑگئیں۔۔
خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 8:08 بجے دارالحکومت بوگوٹا سے تقریباً 170 کلومیٹر (105 میل) مشرق میں آیا اور ملک کے بیشتر حصوں میں محسوس کیا گیا۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ پیراٹیبوینو کے قریب 9 کلومیٹر (5.
اس کا اثر بحر الکاہل کے ساحل کے قریب میڈلین اور کیلی تک محسوس کیا گیا۔
Estas son algunas imágenes de ciudadanos evacuando en Bogotá tras el fuerte temblor de 6.4 sentido sobre las 8:00 a.m. de este domingo 8 de junio. pic.twitter.com/UmOY5dOtXn
— BluRadio Colombia (@BluRadioCo) June 8, 2025
پاراٹیبیوینو قصبے میں، جو زلزلے کے مرکز سے زیادہ دور نہیں، ’اے ایف پی‘ کے نامہ نگاروں نے جزوی طور پر منہدم ہونے والی کئی عمارتیں دیکھی، جن میں ایک سفید رنگ کا چرچ بھی شامل ہے جس کی ایک دیوار کو شدید نقصان پہنچا۔
آس پاس کے رہائشیوں نے زنک کی چھتوں والے کئی منہدم ڈھانچے کے ملبے کو اٹھایا۔
زلزلے سے شدید زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے، لیکن حکام کئی دیگر دیہاتوں میں معمولی نقصان کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
اینڈیز میں واقع اور 80 لاکھ آبادی والے بوگوٹا کے ہزاروں شہری عمارتوں سے نیچے اور باہر بھاگے اور پارکوں اور دیگر کھلی جگہوں پر پناہ لی۔
بوگوٹا کے سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ نے ’ایکس‘ پر کہا کہ ہنگامی کارکن نقصان کا پتا لگانے اور مدد فراہم کرنے کے لیے شہر میں معائنہ کر رہے ہیں۔
بوگوٹا کے میئر کارلوس فرنینڈو گالان نے کہا کہ تمام ڈیزاسٹر ایجنسیوں کو فعال کر دیا گیا ہے۔
کولمبیا کے علاوہ برازیل، ایکویڈور اور وینزویلا میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے۔
واضح رہے کہ وسطی کولمبیا شدید زلزلے کی سرگرمیوں کے زون میں ہے۔ 1999 میں یہاں 6.2 شدت کے زلزلے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یہ ملک بحرالکاہل کے ’رنگ آف فائر‘ پر واقع ہے، جو شدید زلزلہ خیز سرگرمی کی قوس ہے جہاں ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔ یہ قوس جاپان سے شروع ہو کر جنوب مشرقی ایشیا سے ہوتی ہوئی پیسیفک بیسن کے ذریعے جنوبی امریکا تک پھیلی ہوئی ہے۔
Post Views: 2
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین