Daily Sub News:
2026-07-24@09:55:48 GMT

بجٹ 2025-2026: مالیاتی بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سپرد

اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT

بجٹ 2025-2026: مالیاتی بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سپرد

بجٹ 2025-2026: مالیاتی بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سپرد WhatsAppFacebookTwitter 0 10 June, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز )سینیٹ نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم کے بل کی سفارشات کو منظور کرلیا جبکہ چیئرمین نے مالیاتی بل کو قائمہ کمیٹی کے حوالے کردیا۔ چئیرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں آغاز پر سابق سینیٹر عباس آفریدی کی وفات پر فاتحہ خوانی کروائی گئی۔

ایوان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور غزہ کے شہدا کیلیے دعائے مغفرت نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کرائی۔وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے سالانہ مالیاتی بل (بجٹ) 2025 ایوان میں پیش کیا، جس پر اپوزیشن نے ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی کی۔

اپوزیشن اراکین نے جعلی بجٹ اور جعلی حکومت نامنظور کے نعرے لگائے اور کسانوں کا قتل، تنخواہ دار طبقے کا قتل کے نعرے لگائے۔ چئیرمین سینیٹ نے مالیاتی بل قائمہ کمیٹی خزانہ کے سپرد کرتے ہوئے بجٹ پر 10 روز میں سفارشات جمع کروانے کی ہدایت کی اور ممبران کو کہا کہ وہ تین روز میں سفارشات کمیٹی کو جمع کرواسکتے ہیں۔

قبل ازیں اجلاس میں سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کے بل پر قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی رپورٹ پیش کی گئی جبکہ منشیات کے کنٹرول سے متعلق ترمیمی بل پر قائمہ کمیٹی داخلہ کی رپورٹ پیش کی گئی۔اس کے علاوہ منافع خوری و ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے بل پر قائمہ کمیٹی داخلہ کی رپورٹ پیش کی گئی۔انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترمیمی مالیاتی بل 2025 پر رپورٹ اور سفارشات منظوری کے لیے پیش کی گئی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کی سفارشات کو منظور کرلیا گیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی حکومت کی دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کی تجویز وفاقی حکومت کی دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کی تجویز کسی نے تقریر سے نہیں روکا، تبلیغ والوں کی نااہلی کا معاملہ ہے: مولانا طارق جمیل کا ردعمل حکومت بڑا فیصلہ ،، ٹیکس ادا نا کرنیوالے گرفتار ہو سکیں گے ،، کیسے ، کیوں اور کون کرے گا ؟تفصیلات سب نیوز پر بنگلہ دیشی ہائی کمشنر محمد اقبال کی چیئر مین سی ڈی اے سے ملاقات سی ڈی اے بورڈ کا گیارہواں اجلاس ،22عارضی ملازمین کو مستقل کر دیا گیا بجٹ: سود کی آمدنی پر ٹیکس کی شرح میں 5 فیصد اضافے کا فیصلہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی مالیاتی بل

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف