Express News:
2026-07-24@11:13:37 GMT

سعودی عرب میں معروف صحافی کو سزائے موت دیدی گئی

اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT

سعودی عرب میں نامور صحافی اور بلاگر 40 سالہ ترکی الجاسر کی سزائے موت پر آج عمل درآمد کردیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صحافی ترکی الجاسر کو 2018 میں ان کے گھر سے گرفتار کرکے موبائل اور لیپ ٹاپ تحویل میں لے لیئے گئے۔

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ترکی الجاسر کے موبائل اور لیپ ٹاپ سے ایسا مواد ملا تھا جو ملک سے غداری اور جاسوسی کے ذمرے میں آتا ہے۔

صحافی ترکی الجاسر کا مقدمہ کب اور کہاں چلا اس کی تفصیلات منظرِعام پر نہیں لائی گئیں۔

تاہم سعودی حکام کا کہنا ہے کہ سنگین جرائم میں ترکی الجاسر کو سزائے موت سنائی گئی تھی جس کی توثیق ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے بھی کی تھی۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ صحافی ترکی الجاسر کو ٹویٹس میں سعودی شاہی خاندان اور ان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے پر سزا دی گئی۔

صحافیوں کی حقوق کی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے بقول سعودی حکام کا دعویٰ تھا کہ الجاسر ایک ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے پیچھے تھے جو شاہی خاندان کے خلاف کرپشن کے الزامات شائع کرتا رہا۔

سعودی حکام کے مطابق صحافی ترکی الجاسر پر شدت پسند گروہوں سے متعلق متنازع ٹویٹس کرنے کا بھی الزام تھا۔

ترکی الجاسر نے 2013 سے 2015 تک ایک ذاتی بلاگ بھی چلایا اور عرب بہار تحریک کے حق، خواتین کے حقوق، اور بدعنوانی جیسے موضوعات پر کھل کر لکھا۔

ان کا شمار سعودی عرب کے ان آوازوں میں ہوتا تھا جنہوں نے اصلاحات کے حق میں آواز بلند کی۔

سعودی عرب پر پہلے بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں سزاؤں اور ان کے طریقوں جیسے سر قلم کرنا اور اجتماعی سزائیں دینے پر سخت تنقید کرتی رہی ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں گزشتہ برس 2024 میں 330 مجرموں کو سزائے موت دی گئی تھی اور رواں برس کے پہلے 5 ماہ میں بھی یہ تعداد 100 سے تجاوز کرچکی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: صحافی ترکی الجاسر سزائے موت

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیدی گئی
  • وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیدی
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی  
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت