واشنگٹن واپسی کا مقصد جنگ بندی نہیں، بات اس سے کہیں بڑی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر کے دعوے کو غلط ثابت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن واپسی کا مقصد جنگ بندی نہیں، بات اس سے کہیں بڑی ہے، اسرائیل اور ایران کے درمیان صرف جنگ بندی نہیں بلکہ تنازع کے حقیقی خاتمے کا خواہاں ہوں۔
جی 7 اجلاس ادھورا چھوڑ کر واشنگٹن واپس پہنچنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹُرتھ سوشل میڈیا پوسٹ میں فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کو تشہیر کا طلب گار قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’ میکرون نے غلطی سے کہا کہ میں کینیڈا میں ہونے والی جی 7 سمٹ کو چھوڑ کر اس لیے واشنگٹن واپس جا رہا ہوں تاکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان سیزفائر پر کام کیا جا سکے’۔
انہوں نے کہاکہ ’غلط! اسے بالکل علم نہیں کہ میں اب واشنگٹن کیوں جا رہا ہوں، اس کا سیزفائر سے کوئی تعلق نہیں، بات اس سے کہیں بڑی ہے، چاہے جان بوجھ کر ہو یا نہ ہو، ایمانویل ہمیشہ بات غلط ہی کرتا ہے، خبردار رہیں!‘۔
یاد رہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیر کو دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی پیشکش کی ہے، صدر میکرون نے کہا تھا کہ ’ ایک پیشکش کی گئی ہے کہ ملاقات ہو اور پھر بالخصوص جنگ بندی پر تبادلہ خیال کیا جائے، اور پھر وسیع تر مذاکرات کا آغاز ہو’۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر کی شب کینیڈا سے واپسی کے دوران طیارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایٹمی مسئلے کا حقیقی خاتمہ چاہتے ہیں، اور اشارہ دیا ہے کہ وہ اعلیٰ امریکی حکام کو ایران سے ملاقات کے لیے بھیج سکتے ہیں۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش گوئی کی کہ اسرائیل ایران پر حملے روکنے والا نہیں، انہوں نے کہا کہ ’آپ اگلے دو دنوں میں سب کچھ جان لیں گے، ابھی تک کسی نے پیچھے ہٹنے کا اشارہ نہیں دیا‘۔
انہوں نے کہا کہ ممکن ہے وہ امریکی مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف یا نائب صدر جے ڈی وینس کو ایران سے ملاقات کے لیے بھیجیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسرائیل اور ایران کے درمیان صرف جنگ بندی نہیں بلکہ تنازع کے حقیقی خاتمے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’میں صرف جنگ بندی نہیں چاہتا، ہم اس سے بہتر چیز پر غور کر رہے ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’صرف جنگ بندی نہیں، ہم اختتام چاہتے ہیں، ایک حقیقی اختتام‘، انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کی جانب سے مکمل ہتھیار ڈالنے کے خواہاں ہیں۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان فضائی جنگ کا آغاز جمعے کو ہوا تھا، جب اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کیے۔ یہ صورتحال اس خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن رہی ہے، جو پہلے ہی اکتوبر 2023 میں اسرائیل کے غزہ پر فوجی حملے کے بعد سے غیر مستحکم ہے۔
جمعے کے بعد سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں اب تک 220 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے 24 شہری مارے گئے ہیں۔
امریکا، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے باز رہے۔
تہران کا مؤقف ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانا نہیں چاہتا، اور وہ جوہری ٹیکنالوجی صرف پرامن مقاصد کے لیے حاصل کر رہا ہے، جیسا کہ نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی (این پی ٹی) کے تحت اس کا حق ہے۔
دوسری جانب، اسرائیل (این پی ٹی) کا فریق نہیں ہے، اور اسے مشرق وسطیٰ کا واحد ملک سمجھا جاتا ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف جنگ بندی نہیں انہوں نے کہا اسرائیل اور کے درمیان نے کہا کہ ایران کے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم