پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی جانب سے بھارتی عملے کو طبی امداد کی فراہمی
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی جانب سے بھارتی عملے کو طبی امداد کی فراہمی WhatsAppFacebookTwitter 0 18 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)پاک بحریہ کے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر کو لائبیریا کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم ٹی ہائی لیڈر سے ایک ہنگامی کال موصول ہوئی، جس میں عملے کے ایک زخمی رکن کے طبی انخلا کی درخواست کی گئی۔
جہاز پر تمام عملہ بھارتی شہریوں پر مشتمل تھا۔جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر نے فوری اور موثر ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے اپنے مربوط میری ٹائم پروٹوکولز کو متحرک کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے زخمی سیفیر کو کراچی کے مقامی اسپتال منتقل کیا۔یہ کامیاب طبی انخلا پاکستان کے میری ٹائم سیفٹی نظام کی آپریشنل تیاری اور فوری ردعمل کا مظہر ہے۔
ہم آہنگی اور فوری عمل درآمد پاک بحریہ کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ سمندر میں انسانی زندگی کے تحفظ کے لیے قومیت سے بالاتر ہو کر اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھاتی ہے۔پاک بحریہ کاجوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر کسی بھی سمندری حادثے کے ردعمل کو مربوط بنانے کے لیے تمام متعلقہ قومی اداروں کے درمیان ایک مرکزی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمعاشرے میں تقسیم، انتشار کی بڑی وجہ نفرت انگیز تقاریر ،تعصب اور تنگ نظری کو ہر محاذ پر شکست دینی ہے، مریم نواز معاشرے میں تقسیم، انتشار کی بڑی وجہ نفرت انگیز تقاریر ،تعصب اور تنگ نظری کو ہر محاذ پر شکست دینی ہے، مریم نواز مشرق وسطی میں امریکی شہریوں کی مدد کیلئے ٹاسک فورس قائم لیبیا کے قریب تارکین وطن کی ایک اور کشتی کو حادثہ، کم از کم پانچ پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ نوجوان نسل کو اداروں کیخلاف منفی پروپیگنڈے کیلئے پیسے نہیں دیے، عظمی بخاری امریکا ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہ بنے، یہ ایک بڑی اور مہلک غلطی ہوگی، امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نیتن یاہو نے مظالم میں ہٹلر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، ترک صدر رجب طیب اردوانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میری ٹائم پاک بحریہ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔