ایران نے رابطے کی کوشش کی، میں نے کہا بہت دیر ہوچکی بات چیت کاکوئی فائدہ نہیں: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو دو ہفتے قبل بات کرنی چاہیئے تھی، اب بہت تاخیر ہوچکی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے واضح کیا ک ایران کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انکشاف کیا کہ ایران نے مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی ہے لیکن میں نے کہہ دیا کہ اب بہت دیر ہوچکی ہے۔
امریکی صدر نے شکوہ کیا کہ ایران نے دو ہفتے پہلے بات کیوں نہیں کی، اب وہ بات کرنا چاہتا ہے جب بات چیت کا وقت گزر گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو کئی سالوں سے ایران سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔ اس کے باوجود بھی جوہری مذاکرات کیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کو ایک “آخری الٹی میٹم” دے دیا ہے اور وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ایران کے خلاف فوجی مداخلت کریں یا نہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا میں جی سیون اجلاس کو ادھورا چھوڑ کر آگئے تھے اور کہا تھا کہ کوئی بڑی خبر ملے گی۔
جس کے بعد صدر ٹرمپ نے نیشنل سیکیورٹی کی میٹنگ بھی کی تاکہ ایران کے جوہری مراکز پر حملے کے لیے اسرائیل کی مدد پر غور کیا جا سکے۔
تاہم اس حوالے سے امریکا کا کوئی فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر نے کہا
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم