پاکستان ہر مشکل گھڑی میں ایرانی قوم کے ساتھ کھڑا ہے: بیرسٹر علی ظفر
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
پی ٹی آئی سینیٹر بیرسٹر علی ظفر—فائل فوٹو
پی ٹی آئی سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پاکستان ہر مشکل گھڑی میں ایرانی قوم کے ساتھ کھڑا ہے۔
بیرسٹر علی ظفر کی قیادت میں وفد ایرانی سفارت خانے پہنچا جہاں انکی ایرانی سفیر سے ملاقات ہوئی۔
ایرانی سفیر سے ملاقات میں دو طرفہ سیاسی امور پر مشاورت ہوئی، سینیٹ کے اپوزیشن وفد میں بیرسٹر علی ظفر، علامہ ناصر عباس، عون عباس بپی، فوزیہ ارشد اور سیف اللّٰہ نیازی شامل تھے۔
ملاقات میں وزیراعظم نے ایران کے خلاف حالیہ اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔
اس موقع پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہمارا وفد پاکستان کی جانب سے ایران کے لیے اظہارِ یکجہتی کا پیغام لایا ہے۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پاکستان ہر مشکل گھڑی میں ایرانی قوم کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایرانی سفیر کو بانی پی ٹی آئی کی جانب سے یکجہتی کا پیغام بھی پہنچایا۔
ملاقات کے حوالے سے سینیٹر علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ایرانی سفیر نے موجودہ کشیدہ صورتحال پر بریف کیا۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے بتایا ہے کہ ایرانی سفیر نے جنگ کے حالات اور ایران کے ردعمل سے آگاہ کیا۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ اسرائیلی ظلم اور بربریت کے خلاف پوری امت مسلمہ یکجا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بیرسٹر علی ظفر ایرانی سفیر
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔