(گزشتہ سے پیوستہ)
پاسدارانِ انقلاب کادعویٰ ہے کہ ان کے پاس ایسے میزائل اڈے ہیں جوسنگلاخ پہاڑوں کے اندرسرنگوں کی صورت میں تعمیرکئے گئے ہیں،اوروہاں خصوصی انجینئرنگ اورڈرلنگ کے ذریعے ہتھیارذخیرہ کیے گئے ہیں۔ان خفیہ اڈوں کی تفصیلات اگرچہ منظرِ عام پرنہیں آئیں،تاہم ان کی موجودگی ایران کی دفاعی حکمت عملی میں ایک کلیدی کرداراداکرتی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے حالیہ مہینوں میں متعددزیرِزمین میزائل سٹورزیا ’’میزائل سٹی‘‘کااعتراف کرتے ہوئے متنبہ کیاہے کہ انہوں نے یہ میزائل تمام صوبوں میں منقطع اندازمیں قائم کررکھے ہیں اورضرورت کے مطابق ان کا استعمال جاری رے گا۔ان میں سے کچھ خاص مراکز مثلاً خرم آباد، کرمان شاہ،ہاجی آباد،قم وغیرہ،500 میٹرسے کہیں زیادہ انڈر گراؤنڈ ہیں، جہاں ریل پرنصب خودکار’’میزائل شاورسسٹم‘‘کے ذریعے5 ایمادمیزائل یکجااورتیزی سے فائرکیے جاسکتے ہیں۔ ایران نے ڈرلنگ اورسرنگوں کاایک ایساخفیہ اور محفوظ جال بنارکھا ہے جہاں ان مستندمراکزمیں ہزاروں میٹرگہرائی میں پیچیدہ سرنگیں اورریل ٹریکس، ٹرانسپورٹر ایریٹرلانچر ٹرکوں کے لئے کے لئے مخصوص ہیں۔
اسرائیل نے حالیہ حملوں میں یہ دعویٰ کیاہے کہ اس نے کرمان شاہ اور تبرِیزجیسے مغربی بیسزکومخصوص اہداف کے لئے نشانہ بنایا گیا،حالیہ طیارہ وارحملوں کے نتیجے میں کئی جگہوں پرنقصان پہنچانے کادعویٰ بھی کیالیکن ابھی تک کسی آزادذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی تاہم ایران ابھی جوابی حملے انہی بیسز سے ہی کررہا ہے جس کی بناپرعالمی دفاعی تجزیہ نگاراس بات کا دعویٰ کررہے ہیں کہ میزائل کے یہ خفیہ اڈے کبھی بھی اس خطے میں حیران کن نتائج لاسکتے ہیں۔
ان مراکزمیں مختلف اقسام کے میزائل اپنے نشانہ پرپروازکرنے کے منتظرہیں،ان میزائل میں خیبرشکن، قدر،سجیل،ایماد،حاج قاسم،پوہ جیسے بیلسٹک اورکروز میزائل رکھے گئے ہیں ۔جنوبی ساحلی علاقوں میں زیرِزمین بحری میزائل اڈے بھی تعمیرکیے گئے،جن میں گھدر380جیساکم رینج اینٹی وارشپ سسٹم میزائل بھی شامل ہیں۔ پاسدرانِ انقلاب کی اعلی کمان کی حکمتِ عملی کے مطابق ان اڈوں پرموجودمیزائل کبھی بھی توازنِ قوت کوتبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ان میزائلوں کو چلانے کے لئے کسی حکم کے منتظرافراد کا کہنا ہے کہ ان اڈوں پرموجودمیزائل دشمن کی سرزمین پر ’’وولکین‘‘ کی طرح ایک لمحے میں پھٹ سکتے ہیں جویقینا اضافی فائرپاورمیں توازن کے لئے ضروری ہیں۔ یاد رہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے جنگ سے قبل ہی یہ اعلان کہ یہ نیٹ ورک امریکاواسرائیل سمیت دشمنوں کے احتساب کے لئے تیارہے ۔
ایران کامیزائل نیٹ ورک نہ صرف عسکری قوت کامظہرہے بلکہ خطے میں ایک سیاسی توازن کی دعوت بھی ہے،جہاں زیرِ زمین صلاحیت کسی بھی وقت ’’آتش فشاں‘‘کی طرح پھٹ سکتی ہے۔اسرائیل کی طرف سے موسادنیٹ ورک کی موجودگی کادعوی، اور ایرانی گرفتاریوں کاسلسلہ نہ صرف خفیہ جنگ کی پیچیدگیوں کوظاہرکرتاہے بلکہ یہ بتاتاہے کہ ہرفریق نے اس تصادم کو شطرنج کے کھیل کے طورپردیکھاہے۔اسٹیج پرموجود عام شہری بھی،جوان خفیہ نیٹ ورکس اورزیرِزمین سوراخ کی گتھیاں نہیں سمجھ سکتے،وہ وقتِ کارروائی پرریاست کے طاقتورہتھیاربن جاتے ہیںایک ایسی سیاسی حقیقت جسے چھپایانہیں جاسکتا۔
ایران کے لب ولہجے میں ایک مظلوم کی جارحیت اورانقلابی شان کی آمیزش پائی جاتی ہے۔ جب تہران سے کہاجاتاہے کہ ہم نے صبرکادامن پکڑ رکھا تھا،مگراب ہمارے ہاتھ میں شمشیرِحق ہے، گویا لہوکی زبان میں جوہری ایقان ہی ایران کا مؤقف ہے تویہ محض عسکری اعلان نہیں بلکہ ولایتِ فقیہ کی عقیدت آمیزجہت ہے۔پاسدارانِ انقلاب کی طرف سے آنے والے بیانات کی گونج یہ پیغام دے رہی ہے کہ ہم نے ان پہاڑوں کوچیرکرراہ نکالی ہے،جن میں کبھی صرف خاموشی بسی تھی۔یہ صرف میزائل بیسزکی انجینئرنگ نہیں بلکہ مزاحمت کی تہذیب کااظہارہے۔ایران کی ہردھمکی، ہر دعویٰ گویاحسینی کربلاکاجدیداظہارہے جہاں ظلم کے خلاف جنگ،ایک دینی فریضہ ہے،اسی لئے جوہری ٹیکنالوجی، ایک عرفانی معراج کادرجہ اختیارکرچکی ہے۔
اب سوال اٹھتاہے کہ ایران یہ صلاحیت کہاں سے لایا؟خیبرشکن میزائل،جس کی تباہ کن صلاحیت کاچرچاہے،وہ تین مرحلوں میں پھٹنے والامہلک ہتھیار ہے۔اس کے اثرات تل ابیب کے قلب میں محسوس کئے گئے،اوریہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ ایرانی میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی کارازنہ فقط ریورس انجینئرنگ میں ہے بلکہ ان خفیہ تجربات میں بھی ہے جوسنگلاخ پہاڑوں کے نیچے سرنگوں میں انجام دئیے گئے۔ پاسدارانِ انقلاب نے کئی باردعوی کیاہے کہ ان کے پاس ایسے خفیہ میزائل اڈے موجودہیں جودنیاکی نظروں سے اوجھل ہیں،لیکن اپنے وارمیں بجلی کی سی تیزی رکھتے ہیں۔
تل ابیب کی زبان میں ایک خوفزدہ خوداعتمادی بولتی ہے۔جب اسرائیلی حکمران اورفوجی سربراہ بڑے تفاخرکے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم نے ایران کی پشت میں خنجرماراہے اوروہ بھی ان کی سرزمین سے،تویہ بات جاسوسی کی صہیونی مکاری اوردھوکہ دہی روایات کا فخر ہے۔موساد کادعویٰ کہ ایران کے اندرنیٹ ورک موجودہیں،نہ صرف خطے کے ممالک کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے بلکہ یہ سائبر،نفسیاتی اوراسٹرٹیجک جنگ کا ایسا پہلو ہے جومیدانِ جنگ سے زیادہ دماغی میزپرکھیلا جاتاہے۔اسرائیلی مؤقف،اپنے وجودکو بچانے کی آڑ میں خطے میں اجارہ داری کے جال کوبھی فروغ دیتاہے۔یہ وجودی خوف اوروسعتِ قبضہ کے درمیان ایک باریک مگرگہراتضادہے اورخودکو بچانے کی جنگ کی آڑمیں ساری دنیاپر اپنے تسلط کا سفر ہے جوگریٹر اسرائیل کی شکل میں ان کاخواب ہے۔
اسرائیل نے13جون2025ء میں پہلی مرتبہ اعتراف کیاکہ اس نے ایران کے اندر موسادکا ’’کلینڈسٹائن ڈرون بیس‘‘قائم کیا،ڈرونزکے ذریعے میزائل لانچرز،ایئرڈیفنس اثاثے نقصان پہنچائے اورفضائی حملوں کی راہ ہموارکی۔جون کوکیے گئے فضائی حملوں میں یہ اڈابنیادی کھلاڑی سمجھاجاتاہے ۔یادرہے کہ 31جولائی 2024ء کو موساد نے اپنے اسی نیٹ ورک کے توسط سے اسمعیل ہنیہ کوتہران میں شہیدکیاتھا،جہاں وہ ایران کے نومنتخب صدرمسعودپیزشکیان کی حلف برداری میں شریک تھیاوربعدازاں حماس کے دیگر قائدین کوبھی ختم کرنے کی ذمہ داری بھی موسادسے منسوب کرتے ہوئے حماس اورایرانی اعلیٰ عہدیداروں کوشہیدکرنے کادعویٰ کیاہے جبکہ ایران نے اس کے بعد24افراد (جن میں اعلیٰ افسران شامل تھے)کوگرفتارکرتے ہوئے بیس کوناکام کرنے کا دعوی کیاتھا۔بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس نیٹ ورک میں کئی انڈین افرادبھی گرفتارکئے گئے تھے جبکہ حالیہ اطلاعات کے مطابق ایران نے ایک مرتبہ پھر موسادکے مبینہ نیٹ ورک کے70+بھارتی شہریت رکھنے والے افرادکوگرفتار کیا ہے۔یہ الزام ایرانی میڈیااورپاسدارانِ انقلاب کی طرف سے سامنے آیاہے جس پرابھی تک اسرائیل اوربھارت کی طرف سے مکمل خاموشی اس بات کامظہرہے کہ ہنودویہودکایہ مشترکہ پلان پاکستان کے ان تمام خدشات کی کھلی تصدیق ہے جس کے بارے میںپاکستان نے مضبوط شواہد کے ساتھ ایران کو مطلع کیاتھالیکن ایران نے اس وقت کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں اٹھائے جس کاخمیازہ اب انہوں نے بھگتاہے۔
دوسری جانب امریکاایک تماشائی کے روپ میں،فقط خبردارکررہاہے۔صدرٹرمپ نے واضح کیاہے کہ وہ اس جنگ کاحصہ نہیں، مگراگرایران نے امریکاپر حملہ کیاتووہ ایسی ضرب لگائیں گے کہ دنیانے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔یوں توٹرمپ کایہ مؤقف کہ ایران پرحالیہ اسرائیلی حملے میں امریکی تائیدشامل نہیں لیکن اب تک ایران کودھمکی آمیزاندازمیں ایٹمی صلاحیت کے حصول سے روکنے کے لئے معاہدہ کرنے پرمجبورکرنے کے بیانات اسرائیل کابرملاساتھ نہیں تواورکیاہیں؟
ٹرمپ نے واضح اورموثراندازمیں ایران کودھمکی دی ہے کہ’’اگرہم پرایران کی طرف سے کسی بھی طرح،یاکسی بھی شکل میں حملہ کیاگیاتوامریکی مسلح افواج کی پوری طاقت سے ایساجواب دیں گے کہ جوتاریخ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی‘‘۔یہ بیان نہ صرف امریکی مداخلت کااعلان ہے بلکہ اس سے خطے کے تمام فریقین کویہ پیغام جاتاہے کہ امریکافی الحال سیاہ رخ سے سامنے نہیں آیا۔اگرچہ ٹرمپ نے ظاہراًاعلان کیاکہ ہم اس تنازع میں شامل نہیں مگرتاریخ کاورق بتاتاہے کہ امریکاکبھی بھی محض تماشائی نہیں رہا۔ان کے دھمکی آمیزبیانات کے بعددھندمیں چھپے ہوئے ہاتھ نمایاں ہوگئے ہیں۔’’گویاقلم ہاتھ میں نہیں، مگرانگلی بندوق کی لبلبی پرہے‘‘۔امریکی مؤقف بیک وقت ثالثی کالبادہ اورگلوبل جارحیت کاسایہ ہے۔تاہم حیرانی کی بات نہیں۔یہی دورخارویہ،امریکی اسٹرٹیجی کی روح ہے۔ہمیشہ سے یہ دیکھنے میں آیاہے کہ جہاں امن کانعرہ امریکابہادربلند کرے،وہاں جنگ کی تیاری کاپردہ پوش ہوتاہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کی طرف سے ایران کی ایران نے ایران کے کہ ایران ہے کہ ان نیٹ ورک گئے ہیں میں ایک ہے بلکہ کے لئے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔