Daily Mumtaz:
2026-07-24@01:35:15 GMT

صدر ٹرمپ نے افغان حکومت کو بڑی دھمکی دیدی

اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT

صدر ٹرمپ نے افغان حکومت کو بڑی دھمکی دیدی

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کو دھمکی دی ہے کہ اگر بگرام ایئربیس واپس نہ کی گئی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر افغانستان بگرام ایئربیس واپس نہیں کرتا، جو امریکہ نے بنایا تھا، تو اس کے نتائج بہت برے ہوں گے۔

امریکی اخبار کے مطابق، امریکا اور طالبان کے درمیان انسداد دہشت گردی کارروائیوں پر مذاکرات جاری ہیں اور بگرام ایئربیس پر محدود تعداد میں امریکی فوجی تعینات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان مذاکرات کی قیادت امریکی نمائندہ خصوصی ایڈم بوہلر کر رہے ہیں۔

اس سے قبل، ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ بگرام ایئربیس کو امریکا نے نہیں چھوڑنا چاہیے تھا اور اب امریکا اسے واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ایئربیس اس لیے بھی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ اس مقام سے صرف ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہے جہاں چین اپنے جوہری ہتھیار تیار کرتا ہے۔

ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ “ہم نے طالبان کو بگرام ایئربیس مفت میں دے دی تھی، لیکن اب ہم اسے واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔” اس بیان کے بعد برطانوی وزیر اعظم کے چہرے پر حیرت کے تاثرات ظاہر ہوئے، اور وہ صدر ٹرمپ کو دیکھنے لگے۔

یاد رہے کہ 2021 میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے دوران امریکا نے بگرام ایئربیس افغان حکام کے حوالے کر دی تھی۔ تاہم، اب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ایئربیس اور افغانستان میں چھوڑے گئے اسلحہ کو واپس لیں گے، اور اس سلسلے میں باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بگرام ایئربیس

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل