خضدار: سابق وزیراعلیٰ بلوچستان کا صاحبزادہ قتل ، فائرنگ سے پوتا زخمی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خضدار( مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان کے ضلع خضدار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نصیرمینگل کے صاحبزادے جاں بحق جب کہ پوتا زخمی ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان پولیس نے بتایا کہ خضدار کے پہاڑی علاقے اڑینجی میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے سابق وزیراعلیٰ نصیرمینگل کے بیٹے عطاء الرحمن مینگل کو قتل جبکہ پوتے کو زخمی کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈی سی خضدار کے مطابق مقتول قبائلی رہنماء عطاء الرحمن مینگل بیٹے مطیع الرحمان کے ہمراہ شکار پر گئے تھے، جہاں 30 سے زائد مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی۔ مقتول عطاالرحمان سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر محمد نصیر مینگل کے بیٹے اور جھالاوان عوامی پینل کے رہنماء میر شفیق الرحمن مینگل کے بھائی تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ میرعطاء الرحمن مینگل پر دہشت گردوں کا حملہ بزدلانہ اور قابل مذمت ہے، حکومت بلوچستان واقعے کی مکمل تحقیقات کرے گی، بلوچستان کے عوام اور حکومت دہشت گردی کیخلاف یکجہتی سے کھڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الرحمن مینگل مینگل کے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔