’دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا‘، امریکی حملوں کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کا پہلا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی فضائی حملوں کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں واضح کیا ہے کہ صہیونی دشمن نے سنگین غلطی کی ہے اور اسے سزا دی جا رہی ہے، جو جاری رہے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے اتوار کو ایران کے 3 اہم ایٹمی مراکز فردو، نطنز اور اصفہان پر حملے کیے، جنہیں تہران کی سب سے اہم جوہری تنصیبات سمجھا جاتا ہے۔ ان حملوں میں امریکیB-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں، ٹام ہاک کروز میزائلوں،F-22 ریپٹرز اورF-35A لائٹننگ جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔ ذرائع کے مطابق، فردو کی تنصیب پر 30,000 پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم کا استعمال کیا گیا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں ایک تصویر بھی شیئر کی جس میں فضائی حملے کی منظر کشی کی گئی ہے۔ تصویر میں ایک کھوپڑی کے ماتھے پر ’اسٹار آف ڈیوڈ‘ کا نشان جو اسرائیلی پرچم کی علامت ہے نمایاں ہے، اور اسے تباہی کا ہدف دکھایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران پر امریکی حملوں کے بعد کرپٹو مارکیٹ میں شدید مندی، بٹ کوائن کی قیمت کم ترین سطح پر
ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کے مطابق، امریکا کے حملوں کے بعد ایران نے خُرم شہر سمیت کم از کم 40 میزائل فائر کیے، جن میں وہ میزائل بھی شامل ہیں جو بھاری وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان حملوں میں اسرائیلی شہروں اور فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی رہبر کے قریبی مشیر حسین شریعت مداری نے ایرانی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب ہماری باری ہے، اور دیر کیے بغیر عمل کا وقت آ چکا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے بحرین میں موجود امریکی بحری بیڑے پر میزائل حملہ کرنا چاہیے اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو امریکی، برطانوی، جرمن اور فرانسیسی جہازوں کے لیے بند کر دینا چاہیے۔
#همین_حالا
مجازات ادامه دارد
دشمن صهیونی یک اشتباه بزرگی کرده، یک جنایت بزرگی را مرتکب شده؛ باید مجازات بشود و دارد مجازات میشود؛ همین حالا دارد مجازات میشود.
— KHAMENEI.IR | فارسی ???????? (@Khamenei_fa) June 23, 2025
ایران اور اسرائیل کے مابین کشیدگی کی حالیہ لہر اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل نے 13 جون کو ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف آپریشن رائزنگ لائن لانچ کیا۔ اس کے بعد ایران کی جانب سے مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جن میں تل ابیب سمیت کئی شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیں: ایران نواز مسلح گروہوں کی امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے لیے تیاری، نیو یارک ٹائمز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد اپنے بیان میں ایران کو خبردار کیا کہ اگر ایران نے امن کی راہ اختیار نہ کی تو اگلے حملے مزید شدید، تیز اور درست ہوں گے۔ ہم اگلے اہداف کو منٹوں میں تباہ کر سکتے ہیں۔
ایران، اسرائیل اور امریکا کے مابین حالیہ حملے ایک بڑے علاقائی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کی بندش نہ صرف تیل کی عالمی ترسیل کو متاثر کرے گی بلکہ خطے میں کھلے تصادم کا خطرہ بھی بڑھا دے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حملوں کے بعد
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔