اسلام آباد(اوصاف نیوز)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کروڑ روپے تک کے کیسز میں ایف بی آر وارنٹ کے بغیر گرفتاری نہیں کر سکے گا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتی اخراجات کو کنٹرول کیا ہے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کے بوجھ کو کم کیا ہے اور ماحولیاتی آلودگی سے تحفظ کیلئے بجٹ میں تجاویز بھی دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے جامع اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنے کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں، 6 لاکھ سے 12 لاکھ تنخواہ پر ٹیکس ایک فیصد کر دیا گیا ہے، بی آئی ایس پی کا بجٹ 716 ارب روپے کردیا گیا ہے جس سے ایک کروڑ خاندان مستفید ہوں گے، درآمدی سولر پینل پر ٹیکس 18 سے کم کر کے10 فیصد کر دیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس کا نفاذ سولر پینل کے 46 فیصد پرزہ جات پر ہو گا، سولر پینلز پر جی ایس ٹی کی شرح 18 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دی ہے، 5 کروڑ روپے تک کے کیسز میں ایف بی آر وارنٹ کے بغیر گرفتاری نہیں کر سکے گا، گرفتاری کیلئے 3 بار نوٹس، انکوائری سے انکار یا ریکارڈ ٹیمپر کا ہونا ضروری ہو گا، گرفتاری کی منظوری 3 رکنی کمیٹی دے گی ،24 گھنٹو ں میں عدالت پیش کیا جائے گا، ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ کسانوں کیلئے الیکٹرانک وئیر ہاوس لا رہے ہیں جس سے انہیں اسٹور کرنے میں مدد ملے گی، ای کامرس کو آسان نظام پر منتقل کیا ہے، ان پر ٹیکس محدود ہو گا، عوام کے استحصال کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، ظاہر شدہ معاشی وسائل سے بڑھ کر جائدادیں خریدی جاتی تھیں جن پر پابندیوں کی تجویز ہے۔
موٹروے پربیوی بھول کرشوہرگاڑی لیکر نکل پڑا، پولیس نے واپس ملوا دیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: نے کہا کہ پر ٹیکس

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف